مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 387
فرموده ۱۹۷۳ء 387 د و مشعل راه جلد دوم ایسی جگہ جہاں بالکل وحشیوں والی زندگی تھی برف کے تودوں کے اندر وہ اپنے کھوہ بنا کر رہتے تھے کیونکہ سال میں ایک ایسا وقت آتا تھا کہ کھالوں کے خیمے بھی کام نہیں دیتے تھے۔بڑی مشقت سے وہ سمندری جانوروں کا شکار کر کے کھانے کا انتظام کرتے تھے اور ان کی چربی اپنے جسموں پر ملتے تھے۔یہ عیش پرست لوگ ان کی دولت سمیٹنے کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ کر ان کے پاس گئے اور ایک ایک سگریٹ دے کر ایک ایک کھال ان سے لے لی اور وہ جنہوں نے شراب کا نام نہیں سنا تھا ان کو شراب کا عادی بنادیا اور ان کی ساری دولت سمیٹ کر لے آئے۔دنیا کی دولت اکٹھی کرنے کی خاطر انہوں نے یہ قربانیاں دیں کیا خدا کو پانے کے لئے ہم اس سے زیادہ قربانیاں نہیں دیں گے؟ انشاء اللہ ضرور دیں گے۔پس اپنے آپ کو القوی بنانے کے لئے اپنی جسمانی قوتوں کی نشو ونما کو عروج تک پہنچاؤ۔یہ ٹھیک ہے کہ خدا تعالیٰ نے بعض کو جسمانی قومی کو بڑھانے اور نشو ونما دینے کی استعداد کم دی ہے اور کسی کو یہ استعداد زیادہ ملی ہے لیکن جتنا کسی کو دیا اس سے متعلق خدا کہتا ہے کہ یہ میری عطا ہے تو نا شکر ابندہ نہ بن اور میری اس عطاء سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے۔جب ان کی نشوونما کامل ہو اگر کامل نہیں تو پورا فائدہ نہیں ہوسکتا۔جب تک جسم مضبوط نہ ہو اس وقت تک وہ مذہبی قربانیاں نہیں دی جاسکتیں جن کا آج اسلام مطالبہ کر رہا ہے میں نے بڑا غور کیا اور میں اپنے اس مسلمان بزرگ کی قوت کو دیکھ کر بڑا حیران ہوا کہ شروع میں چند ہزار مسلمان سپاہی حکومت کسری کی حرکتوں کے نتیجہ میں مجبور ہوئے کہ وہ جنگ لڑیں۔اس حکومت اور سلطنت سے جو دنیا کی سب سے بڑی دو طاقتوں میں سے ایک تھی اور فوجوں کا بہت فرق تھا کہ ایک ایک دن کی دو دو دن کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی لیکن فوجوں کا اتنا فرق تھا کہ ایک مسلمان سپاہی کو صبح سے لے کر جب جنگ شروع ہوتی۔دست بدست جنگ تلوار کی جنگ، تو صبح سے لے کر شام تک تلوار چلانی پڑتی لیکن کسری کی فوجیں تعداد میں اتنی زیادہ تھیں کہ ہر گھنٹے دو گھنٹے کے بعد لڑنے والی اگلی صف پیچھے ہٹ جاتی اور ایک تازہ دم فوج اس فوج کے مقابلے میں جواب تازہ دم نہیں رہی تھی آکھڑی ہوتی اسی طرح وہ اپنی صفیں بدلتے رہتے اور یہ مسلمان صبح سے لے کر شام تک تلوار چلاتے رہتے۔تم کبھی ہاکی لے کر گھماؤ تو دس منٹ گھما سکتے ہو۔یا پندرہ منٹ یا ہمیں منٹ تم تھک جاؤ گے لیکن وہ جس نے خدا کی خاطر صبح سے لے کر شام تک تلوار چلائی اس نے خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق کتنی محنت دعا اور تدبیر اپنے ان بازوؤں کو مضبوط اور طاقتور بنانے کے لئے کی ہوگی؟ تاریخ میں ہم پڑھتے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنی قوتوں کی نشو ونما کا اتنا شوق پیدا ہو گیا تھا کہ بارہ بارہ سال کے بچے بھائی کے سر پر سیب رکھ کر تیر سے اس کا نشانہ لیتے تھے اپنے نشانہ پر اتنا اعتماد تھا اور اتنی مشق تھی۔اتنی ساری محنت انہوں نے نشانہ سیکھنے پر اور اپنے ہاتھ سے تیر بنانے پر خرچ کی۔وہ اپنے ہاتھ سے اپنا اسلحہ بناتے تھے۔کوئی امریکن کارخانہ تو انہیں سامان حرب سپلائی نہیں کرتا تھا۔جس طرح اس لڑائی میں انہوں نے اسرائیل کو سامان جنگ دے دیا وہ مسلمان تو آپ ہی اپنے ہاتھوں سے کمانیں بناتے اور تیر تیار کرتے تھے اور بھائی کے سر پر سیب رکھ کر اس کا نشانہ کرتے تھے۔