مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 388

388 فرموده ۱۹۷۳ء د و مشعل راه جلد دوم میں نے کہا ہے کہ تم اپنے پاس غلیل رکھو تا تازہ گوشت کھاسکو میں ایک دوسری مثال آپ کو بتا تا ہوں۔ہمارے ایک احمدی سندھ میں رہتے تھے اب تو وہ بوڑھے ہو گئے ہیں اور سندھ سے آ بھی گئے ہیں۔غالباً ۴۹-۵۰ ء کی بات ہے۔غلیل رکھنے کی تحریک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے زمینوں کے ہی کسی کام کے لئے مجھے وہاں بلوایا کہ چند دن آؤ اور یہ کام کرو۔ایک دن میں شام کو ڈیرے کے باہر کھڑا ہوا تھا۔وہ شخص گھوڑے پر آئے انہوں نے چار پانچ بھٹ تیتر ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ میں حضرت صاحب کے لئے شکار کر کے لایا ہوں۔میں نے کہا آپ کے پاس بندوق تو ہے نہیں۔آپ نے یہ مارے کس چیز سے ہیں! جیب میں سے غلیل نکال کر کہنے لگے اس چیز سے مارے ہیں۔میں نے پوچھا کیسے مارے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ جہاں وہ بھٹ تیتر بیٹھا ہوا دیکھتے تھے اس کے قریب اپنا گھوڑالے جاتے تھے۔یہ ایک ایسا جانور ہے جو عمو ماریتلی زمین پر بیٹھتا ہے۔بھٹ تیتر کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔سندھ میں دو قسم کا ہوتا ہے ایک کو امپریل کہتے ہیں جو سائز میں بڑا ہوتا ہے اور اس کی گردن میں بڑی خوبصورت مٹھی ہوتی ہے۔ایک چھوٹا ہوتا ہے۔وہ ہماری سندھ کی زمینوں میں کافی ہوتا ہے۔اس وقت میں نے بھی شکار کیا تھا۔لیکن بندوق سے غلیل سے نہیں۔تو انہوں نے بتایا کہ جہاں انہوں نے دیکھا کہ چھوٹے بھٹ تیتر بیٹھے ہوئے ہیں تو وہ اپنی گھوڑی اس کے قریب لے جاتے تھے۔اور عام طور پر یہ جانور گھڑ سوار سے نہیں ڈرتے۔جب بالکل قریب پہنچ جاتے تھے تو اپنا گھوڑا اس کے پیچھے دوڑاتے تھے نیچے گھوڑا دوڑ رہا ہے اور اوپر بھٹ تیتر پرواز کر رہا ہے۔اور یہ دوڑتے ہوئے گھوڑے سے اڑتے بھٹ تیتر کو غلیل کے نشانے سے گرا لیتے تھے۔ایسا اچھا نشانہ تھا۔مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ کہا تو میں نے یہ ہے کہ تم غلیل رکھو۔کیونکہ الامــام جـنـة يقتل من وراء ہ ایک مسلمان کو امام کی ڈھال کی نیچے لڑنا پڑتا ہے اور مصلحتیں نہیں پوچھی جاتیں اس لئے مصلحت نہ پوچھو۔لیکن اگر چاہو تو تمہیں غلیل سے بھٹ تیتر کا شکار بھی مل سکتا ہے۔امریکہ میں اس وقت ہرنوں اور ریچھوں کا شکار تیر کمان سے کیا جارہا ہے اور جو تیر کمان کا بادشاہ تھا یعنی مسلمان وہ اس ہنر کو بھول چکا حالانکہ آج دنیا پھر اس طرف آ رہی ہے۔میں نے گھڑ سواری کا کہا ہے اس میں بھی اچھی ترقی ہے لیکن ایک ہزار گھوڑے یہاں آنے کی ابھی ہم امید نہیں رکھتے کیونکہ اس پر خرچ زیادہ ہوتا ہے۔اور ” بیکو والے یا رستم “ اور ” سہراب “ والے گھوڑے نہیں بناتے ورنہ تو بہت سارے گھوڑے جلدی مل جائیں کیونکہ گھوڑیاں پالنا پھر ان کے بچے ہوں پھر وہ بڑھیں تین چار سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔بہر حال اس کو وقت لگے گا۔لیکن تسلی بخش طریقہ پر وہ کام بھی چل رہا ہے۔کسی دن آپ کے ساتھ یہ مقابلہ بھی ہو جاتا ہے کہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں گھوڑے زیادہ آتے ہیں یا سائیکل زیادہ تے ہیں۔تو جو سائیکلسٹ ہیں وہ اس مقابلہ کے لئے بھی تیاری کریں۔یورپ کے اس دورہ میں یہ سوال کیا گیا وو