مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 386 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 386

386 فرموده ۱۹۷۳ء دو مشعل راه جلد دوم چلانے کی مشق نہ کرنا۔اپنے نشانوں کو درست نہ کرنا اپنے پٹھوں کو مضبوط کرنے کی کوشش نہ کرنا اور پھر کہنا کہ دیکھیں نیت تو جہاد میں شامل ہونے کی بہت تھی لیکن دیکھیں ناں! ہماری بیوی بیمار ہے۔ہمارے بچے کو کھانسی ہوگئی ہے۔اس لئے ہم جہاد کے لئے نہیں جاسکتے۔یہ ماننے والی بات نہیں۔اگر تمہاری تیاری ہوتی اور پھر تمہارا عذر بھی معقول ہوتا تو خدا کا رسول ﷺ بھی تمہارے عذر کو قبول کر لیتا اور اللہ تعالیٰ بھی اس عذر کو قبول کر لیتا۔پس مسلمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جن مقاصد کے حصول کا تم ارادہ اور عزم رکھتے ہو ان مقاصد کے حصول کے لئے جسم قسم کی تیاری کی ضرورت ہے۔وہ تمہیں کرنا پڑے گی۔ورنہ خدا کے نزدیک تم جھوٹے اور دروغ گو اور کذاب ٹھہرو گے۔پس ہمارا مقصد اس دنیا پر ان کے دل جیت کر غالب آتا ہے کہ جو دنیا آج دنیا وی لحاظ سے اتنی ترقی کر گئی ہے کہ دنیا کی ساری دولتیں انہوں نے اپنے خزانوں میں سمیٹ لیں مگر ہم ان دونوں حالتوں سے خائف نہیں ہیں۔اس لئے کہ ہم نے اس دنیا میں اس حقیقت پر اور اس یقین کے ساتھ آنکھ کھولی ہے کہ تمام خزانوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی خزانے دینے والا اور وہی دولت چھینے والا ہے۔آخر تاریخ انسانی واقعات سے بھری نہیں پڑی۔ایک قوم کو ایک وقت میں اللہ تعالیٰ نے اتنے خزانے دیئے کہ وہ ان سے گنے نہیں جاتے تھے اور دوسرے وقت میں وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے۔ہمارے اپنے ملک میں مغل بادشاہوں کے متعلق میں نے کئی جگہ پڑھا ہے کہ ایک وقت میں وہ حاکم تھے اور ان کے پاس اتنی دولت تھی کہ جب ان کی سخاوت جوش میں آتی تھی تو وہ اپنے سرداروں میں ایک ایک وقت میں دس دس نہیں بیس لاکھ روپیہ ایک ایک میں سوسو امراء اور درباریوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔لیکن کچھ اور گناہ تھے کچھ اور غلطیاں تھی جو ان سے سرزد ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی گرفت نے ان کو ان کی غلطیوں کی وجہ سے پکڑا اور دوسروں کے عبرت کا سامان پیدا کرنے کے لئے ان کو یہ سزا ملی کہ ان کی اولاد میں سے ان کی پوتیوں یا پڑ پوتیوں پر ایسا وقت آیا کہ انہیں دیکھنے والوں نے گلیوں میں بھیک مانگتے دیکھا۔پس یہ تو درست ہے کہ غیر اسلامی دنیا نے آج دنیا کی دولتیں سمیٹ لیں مگر ایک احمدی دل کو یہ دولتیں خائف نہیں کر سکتیں۔کیونکہ احمدی کا دل اس یقین سے معمور ہے کہ تمام خزانوں کا مالک خدا کی ذات ہے اور جسے خدامل جائے اس نے ان خزانوں کو لے کر کیا کرنا ہے اور تمہیں تو خدا کہتا ہے کہ میرے لئے قربانیاں دو۔میرے پیار اور میری رضا کی جنتوں کو تم پا لو گے۔اس آواز کے بعد کسی احمدی کو دنیا کے خزانوں سے کیا تعلق۔اس کو کیا حرص اور کیا خواہش دنیا کے خزانوں کی ؟ ان لوگوں نے دن رات ایک کر کے نہایت سخت محنت کر کے۔اپنے شہروں اور وطنوں کو چھوڑ کر رضا کارانہ طور پر جنگلوں میں جا کر اپنی قوم کی خاطر قربانیاں دے کر یہ دولتیں جمع کی ہیں۔یہ نہیں کہ گھر بیٹھے آسمان سے یہ دولتیں گریں میں نے آئس لینڈ اور گرین لینڈ کے متعلق دو تین بڑی مشہور کتابیں پڑھی ہیں۔وہاں ان کے پاس سمندری جانوروں کی کھالیں تھیں جن سے وہ اپنے خیمے بھی بناتے تھے اور بڑی صحت مند زندگی وہ لوگ گزار رہے تھے۔پھر یہ لوگ وہاں پہنچے بالکل