مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 385
دومشعل تل راه جلد دوم ایک احمدی نوجوان کی غیرت کا تقاضا فرموده ۱۹۷۳ء 385 ہلاکو خان اور چنگیز خان جو دنیا فتح کرنے کے لئے اپنے ملک سے نکلے تھے اور ایک دنیا کو انہوں نے فتح کیا تھا ان کے پاس ایسے گھڑ سوار تھے جن کو سات سات آٹھ آٹھ سو میل تک گھوڑے سے اترنے کی اجازت نہیں تھی انہوں نے قاصدوں کی ایسی ٹیمیں بنارکھی تھیں جنہوں نے جلدی خبریں پہنچانی ہوتی تھیں۔وہ ایک گھوڑے سے چھلانگ لگا کر دوسرے گھوڑے پر سوار ہو جاتے تھے۔کیونکہ ایک گھوڑا اتنا لمبا فاصلہ بیک وقت طے نہیں کر سکتا اور گھوڑے پر ہی ان کو کھانا ملتا تھا۔ان کو اترنے کی اجازت نہیں تھی اور پیشاب وغیرہ بھی وہ گھوڑے پر ہی کر دیتے تھے۔اور اس کام کو اتنی اہمیت دی گئی تھی کہ اگر کسی قاصد کا گھوڑا تھک کر گر جاتا اور مرجاتا تھا تو اگر وہاں کوئی جرنیل کھڑا ہوتا تو اسے حکم تھا کہ قاصد کا حکم مانے اور اپنا گھوڑا اسے پیش کر دے۔کیونکہ وقت بچانے کا گر انہوں نے مسلمانوں سے سیکھا تھا۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمان کر دیا اور یہ برکت بھی انہیں مل گئی۔لیکن بڑے بڑے علماء انہوں نے اپنے درباروں میں رکھے ہوئے تھے ان سے وہ یہ باتیں سیکھتے تھے اور چونکہ وہ اسلام نہیں لائے تھے اس لئے بعض حرام چیزیں کھا جاتے تھے۔مثلاً خون حرام ہے لیکن قاصدوں کو یہ حکم تھا کہ اگر تمہیں پیاس لگے اور اتنی پیاس ہو کہ تم صبر نہ کر سکو تو اس صورت میں ایک خاص قسم کا سوراخ دار سوا ان کے پاس ہوتا تھا اور گھوڑے کی گردن کی ایک خاص رگ ان کو بتائی جاتی تھی اور حکم تھا کہ اس کے اندر سوا ڈالو اور سرپٹ دوڑتے گھوڑے کا دو چھٹانک یا ایک پاؤ خون پی کر اپنی پیاس بجھالو اور اپنی طاقت کو قائم رکھو ہمیں جائز ذرائع استعمال کرنے ہوں گے لیکن میری غیرت تو یہ برداشت نہیں کرتی۔کیا آپ کی غیرت یہ برداشت کرے گی کہ چنگیز خان کا قاصدا تناقوی اور مضبوط ہو کہ اس قسم کے کام کرے اور ایک احمدی نوجوان کہے کہ میں نہیں کر سکتا۔اس لئے ہماری غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام سے باہر دنیا میں جتنی ترقی کرنے والی اقوام نے اسلام کی باتیں سیکھ کر اپنے نفوس کو سختیوں کے برداشت کرنے کی اور اپنے ”ڈولوں کو مضبوط بنا کر سختیاں جھیلنے کی عادت ڈالی ہے وہ ہم میں نہ ہو۔یہ ہماری غیرت برداشت نہیں کرتی۔پس زیادہ سے زیادہ سات سال میں۔ویسے تو آپ تین سال میں بھی کر سکتے ہیں لیکن بعض مشکلات ہیں مثلاً خرچ کے لحاظ سے آج کل سائیکل مہنگا ہو گیا ہے۔چار سو روپے سے اوپر ایک سائیکل کی قیمت ہے۔ایک لاکھ سائیکل کا مطلب ہوا چار کروڑ روپے۔ایک وقت میں جماعت یہ برداشت نہیں کر سکتی۔یہ درست ہے لیکن آپ نیت کر لیں کہ جس وقت بھی خدا نے آپ کو توفیق دی آپ سائیکل خریدلیں گے تو سائیکل خریدنے کا ثواب انما الاعمال بالنیات کے مطابق ابھی سے ملنا شروع ہو جائے گا۔دوسرے اس لئے کہ قرآن کریم نے ایک مسلمان کو جن میں نفاق کا کوئی شائبہ نہیں یہ حکم دیا ہے کہ اگر تمہاری نیت کسی مقصد کے حصول کی ہے۔تو اس کے لئے جس قسم کی تیاری چاہیئے وہ تم کرو گے منافق کے متعلق کہا لوارادو الخروج لا عدوا له عدة کہ اگر میدان جہاد میں جانے کا ان کا ارادہ ہوتا تو وہ اس کے لئے تیاری کرتے۔ان کا جہاد کے لئے تیاری نہ کرنا ان کا اس وقت کے لحاظ سے تیر کمان نہ خریدنا تلوار ان کے پاس نہ ہونا، تلوار چلانے کی مشق نہ کرنا۔تیر