مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 29
29 فرموده ۱۹۶۶ء د و مشعل راه جلد دوم دد گند کی اس پر جم گئی تھی۔اس پیالہ میں شام کو ہمیں سالن ڈال کر دے دیا گیا۔اور کہا گیا کھاؤ۔اس وقت طبیعت سخت گھبرائی۔اب میں سوچتا ہوں کہ اگر کسی اور موقع پر وہ چیز سامنے آ جائے تو بغیر کھانا کھائے ہاتھ سے گر جائے۔لیکن جیل میں فورا طبیعت سنبھلی اور خیال آیا کہ یہ تو شیطانی خیال ہے کہ اس پیالہ میں نہیں کھانا۔خدا کیا کہے گا کہ میری خاطر تم گندے پیالے میں روٹی نہیں کھا سکتے۔اس پر ہم نے اس پیالہ میں روٹی کھالی اور ہمیں کوئی تکلیف نہ ہوئی۔اور یہ صحیح ہے کہ اس جذبہ کے ساتھ کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔لیکن بعض تکلیفیں جذباتی اور چینی ہوتی ہیں۔اور بعض تکلیفیں جسم کی عادت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور جسم کی عادت کے ساتھ تعلق رکھنے والی تکلیفوں میں جسم بہر حال تکلیف محسوس کرتا ہے۔مثلاً عادت بری چیز ہے چاہے کسی چیز کی بھی ہو۔اگر کسی کو چار پائی پر سونے کی عادت پڑ جائے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے کام پوری تسلی کے ساتھ نہیں کر سکتا۔مثلاً آپ دوست جو یہاں آئے ہیں آپ میں سے جن کو چار پائی پر سونے کی عادت پڑ گئی ہے ان کو ان دنوں مصیبت پڑی ہوئی ہوگی کہ زمین پر سونا ہے۔لیکن اگر سال میں کچھ دن آپ گھر میں بھی زمین پر سوئیں تو آپ کو ان دنوں زمین پر سونے کی وجہ سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ہم بچپن سے ہی شکار پر جاتے رہے ہیں میں اس وقت چھوٹا سا تھا۔عمر کے لحاظ سے ابھی میں خدام الاحمدیہ میں بھی نہیں آیا تھا۔اطفال والی عمر کے حصہ میں میں تھا۔اس وقت بھی ہم حضرت صاحب کے ساتھ شکار پر جاتے تھے۔اس وقت حضور بھی زمین پر سوتے تھے اور ہم بھی زمین پر سوتے تھے اور زمین پر سونے میں ہمیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔لیکن شہری لوگ ( میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے ) زمین پر سونے سے گھبراتے ہیں کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہیں زمین پر سونے کی عادت نہیں۔اس قسم کے بہت سارے کام ہیں جنہیں انسان گندا سمجھ کے گھبرا جاتا ہے۔لیکن جس شخص نے دنیا کے گند دور کرنے ہوں وہ گند کو ہاتھ لگانے سے کس طرح ہچکچاہٹ محسوس کرے گا۔آپ کو تو خدا تعالیٰ نے دنیا میں پیدا ہی اسی لئے کیا ہے کہ دنیا کے گندوں کو دور کرو۔ماں کو دیکھ لو۔اللہ تعالیٰ نے اس کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے کہ بچے کو صاف رکھے۔جب وہ ٹی کرے تو اپنے ہاتھ سے صاف کرے۔اب چونکہ یہ بات اس کی فطرت میں داخل ہے اس لئے وہ اس گند کو بڑی بشاشت سے دور کرتی ہے۔اور اس میں کوئی تکلیف محسوس نہیں کرتی اسے یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ گند کو ہاتھ لگا ہی ے۔بعض مائیں بعد میں صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوتی ہیں۔لیکن گند کو دھوتے وقت ان کی طبیعت میں کوئی ہچکچاہٹ پیدا نہیں ہوتی۔ان کی طبیعت میں کسی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔ان ماؤں کی نسبت بہت زیادہ خطرناک گند ہیں جن کو دور کرنے کی ڈیوٹی خدا تعالیٰ نے آپ کے ذمہ لگائی ہے۔پھر اس میں عار کیوں محسوس ہو۔آپ کہیں جارہے ہیں ایک بڑھیا آپ کو نظر آتی ہے۔آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے ہاتھ میں ایسا سامان ہے جسے وہ ٹھیک طرح سے نہیں اٹھا سکتی۔وہ لنگڑ النگڑا کر چلتی ہے اور بہت تکلیف محسوس کرتی ہے۔اگر آپ نے سوٹ پہنا ہے ، ٹائی لگائی ہوئی ہے، ننگے سر ہیں اور بال بنائے ہوئے ہیں تو آپ اس بڑھیا کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔لیکن اگر آپ سادہ زندگی اختیار کئے ہوئے ہوں اور کسی چیز سے آپ کو عار نہ ہو تو آپ فوراً آگے بڑھیں گے اور کہیں