مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 28
دومشعل نعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۶ء 28 کے کہ ان کی اپنی خواہش بھی ہوتی ہے اور وہ بڑے اخلاص سے جاتے ہیں مگر چونکہ انہیں ان باتوں کی مشق نہیں ہوتی اس لئے گاؤں والوں کے ادنی اشارہ پر کسی اور کو کہتے ہیں کہ پیسے ہم سے لے لو اور ہمارے کھانے کا انتظام کر دو۔اب آپ جانتے ہیں کہ زمیندار تو کہیں گے ہماری ناک کٹ گئی کیا ہم پیسے لے کر کھانا پکائیں۔کیا ہم پندرہ دن تک دو آدمیوں کا کھانا نہیں کھلا سکتے۔اس طرح جو اصل روح تھی وہ فوت ہو جاتی ہے۔کیونکہ وقف عارضی کی روح یہ تھی کہ کسی پر بار نہیں بنا۔اپنا کھانا خود پکانا ہے اور جو کام سپرد کیا جائے وہ کرنا ہے۔جہاں جہاں ہمارے دوستوں نے اس طریق پر کام کیا۔دوسروں کی نسبت وہاں بہت زیادہ اثر ہوا۔اب دیکھو اگر وہ اپنا کھانا آپ پکا ئیں تو وہ آزاد ہیں۔جب تک چاہیں کام کریں لیکن اگر کسی کے گھر کھانا ہو تو مغرب کے بعد وہ گھر والا کہے گا آئیں چل کر کھانا کھالیں اور گھر والی کہے گی کہ میں نے اس کو رات کے دس بجے کھانا کھلانا ہے۔اب مغرب سے لے کر رات کے دس بجے تک کا وقت تو اس کا ضائع ہو جائے گا۔اگر اس نے اپنا کھانا پکانا ہوتا تو مغرب سے پہلے دو روٹیاں پکالیتا اور کھانا کھا کر وہ اپنا باقی وقت قرآن کریم پڑھانے ، ملنے اور دوستوں کو بیدار کرنے میں خرچ کرتا اور دوسرے بہت سارے کام کرتا۔جو اس نے وہاں کرنے تھے۔لیکن دوسرے کے گھر کھانے کا انتظام کیا تو یہ مصیبت ہوگئی کہ بندھے ہوئے ہیں۔گھر اس وقت جاؤ جب مرد بلائے اور کھانا اس وقت ملے گا جس وقت اس کی بیوی چاہے گی۔غرض کسی چیز کو ذلیل نہیں سمجھنا چاہیئے۔جس وقت کانگرسیوں کو حکومت انگلستان نے قید کرنا شروع کیا تو وہ اکثر پڑھے لکھے ہوتے تھے انکو ہارڈ لیبر (Hard Labour) کے طور پر سوت کاتنے کیلئے چرخے دیئے جاتے تھے۔گاندھی جی بہت ہوشیار آدمی تھے انہوں نے بعد میں گاندھی کا چرخہ کا رواج پیدا کر دیا۔یعنی جب تم باہر رہو تب بھی چرخہ کا تو اور جب جیل میں جاؤ تب بھی چرخہ کا تو۔اس طرح کانگرسیوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔وہ جیل سے باہر ہوتے تب بھی چرخہ کاتے اور جب جیل میں جاتے تب بھی چرخہ کاتے۔دنیا کی تحریکوں میں اور جود نیا دار لوگ ہیں ان کو واقعی تکلیف ہوتی ہے۔لیکن جو خدا تعالیٰ کیلئے جیل میں چلا جائے اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔۱۹۵۳ء میں جب ہمیں ایک مہینہ پچیس دن کیلئے جیل میں بھجوایا گیا ( یعنی حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور اس خاکسار کو) تو ہمیں بھی جیل میں چرخہ کاتنے کی مشقت دی گئی تھی اور ہم بڑی خوشی اور بشاشت سے سوت کاتنے کی کوشش کرتے تھے دھا گا کبھی بنتا تھا اور کبھی ٹوٹ جاتا تھا۔بہر حال ہم نے تھوڑا تھوڑا سوت کا تناسیکھنا شروع کیا۔لیکن ابھی ہمیں یہ فن پوری طرح نہیں آیا تھا کہ گورنمنٹ نے ہمیں جیل سے رہا کر دیا۔گو ہم نے یہ فن پوری طرح سیکھا نہیں لیکن وہاں بیٹھ کے ہمیں اس میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی تھی۔کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ہم خدا تعالیٰ کی خاطر جیل میں آئے ہیں اور جو چیز بھی خدا کہے اس میں برکت ہوتی ہے۔سوت کا تنا تو بڑی صفائی والی چیز تھی۔لیکن ایک چیز کی وجہ سے اس وقت طبیعت میں ذراسی کمزوری پیدا ہوگئی تھی۔پہلے دن جب کسی کو پتہ نہیں تھا۔کالی کوٹھری میں ایک پیالہ تھا۔جس مٹی کا یہ پیالہ بنایا گیا تھا اتنی ہی موٹی تہہ