مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 30
قل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۶ء 30 دومشعل گے کہ ماں جی میں آپ کے بچے کی طرح ہوں اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔جہاں آپ جانا چاہیں میں آپ کا سامان اٹھا کر وہاں پہنچادوں گا۔اس کا جواب وہ بڑھیا دورنگ میں دے گی یا تو وہ سوچے گی کہ دنیا میں بڑے لفنگے موجود ہیں یہ نوجوان بھی ان میں سے ایک لفنگا ہے۔اس کو اپنا سامان نہیں دینا چاہیئے۔ہوسکتا ہے کہ یہ سامان اٹھا کر اپنے گھر لے جائے۔وہ بڑھیا جو چاہے کہے۔اللہ تعالیٰ بہر حال آپ کو اس کا ثواب دے گا۔یاوہ کہے گی۔یہ بڑا اچھا انسان ہے۔بڑا ہمدرد ہے۔اس سے میری تکلیف نہیں دیکھی گئی۔سو وہ آپ کو پیار کرے گی۔آپ کو بڑی دعائیں دے گی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دہرا ثواب مل جائے گا۔آپ کے اس نیک کام کی وجہ سے ثواب تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دینا ہی تھا لیکن اس بڑھیا کی دعائیں بھی سنے گا اور آپ کو دوہرا ثواب مل جائے گا۔بہر حال کسی چیز کے کرنے میں عار نہیں ہونی چاہیئے اور یہی وقار عمل کی روح ہے۔لاہور میں خدام الاحمدیہ کے خدمت خلق میں کام ہمیں وقار عمل ان طریقوں پر شروع کر دینا چاہیئے جو ہمیں حضرت مصلح موعودؓ نے بتائے تھے اور اس کی روح کو زندہ کرنا اور زندہ رکھنا چاہیئے۔۱۹۵۰ء میں جب سیلاب آیا۔اس وقت ہمارا کالج لاہور میں تھا۔اس وقت لا ہور شہر کے بہت سے حصے جزیرے بن گئے تھے۔ڈی سی صاحب نے خدام الاحمدیہ اور تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کو خصوصاً کہا اور تو کوئی کام نہیں کرتا تم جا کر کام کرو۔اور گھروں سے روٹیاں اکٹھی کرو۔گورنمنٹ نے یہ اعلان کر دیا ہوا تھا کہ جو لوگ روٹیاں دینا چاہیں وہ روٹیاں دے دیں تاہم ہوائی جہازوں کے ذریعہ سیلاب سے گھرے ہوئے علاقوں پر پھینکیں۔تین چار دن یا پانچ چھ دن اس قسم کے حالات رہے تھے۔ہمارے کالج کے طلباء بڑی بشاشت کے ساتھ روٹیاں اکٹھی کرنے کیلئے جاتے تھے اور اس میں وہ کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ایک دن ہمارے کالج کے طلباء کی پارٹی میرے پاس آئی اور انہوں نے کہا۔ہم ایک محلہ میں روٹیاں اکٹھی کرنے گئے تھے لیکن محلہ والوں نے کہا آئندہ تم آؤ گے تو ہم تمہیں ماریں گے۔انہوں نے کہا تسی مرزائی ایتھے کی کرن آگئے او۔ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ مرزائی بیچارے تو ان کے بھائیوں کیلئے روٹیاں مہیا کرنے کیلئے محنت کر رہے ہیں۔ورنہ انہیں کیا مصیبت پڑی تھی کہ وہ اپنی رضائیاں چھوڑ کر کمروں سے نکلتے اور تمہارے پاس آتے۔بہر حال دنیا میں ہر طرح کے انسان ہوتے ہیں۔اچھے انسان بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔میں نے ان طلباء سے کہا اپنے لئے مانگنا عار ہے لیکن کسی دوسرے کی حاجت کو پورا کرنے کیلئے مانگنا د ہرا ثواب ہے۔ایک تو آپ نے تکلیف اٹھائی۔اور ایک اس شخص کو ثواب پہنچا دیا جس سے تم نے روٹیاں حاصل کیں۔گویا آپ کو اپنا حصہ بھی ثواب سے ملا اور اس شخص کے ثواب سے بھی حصہ ملا۔میں نے طلباء کو ہدایت کی کہ تم کل صبح پھر اسی محلہ میں جاؤ اور ان سے کہو کہ کل تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم پھر آؤ گے تو ہم تمہیں ماریں گے۔آپ ہمیں جتنی چاہیں چیڑ میں ماریں لیکن ایک شرط ہے کہ جتنی چپیڑ میں مارو اتنی روٹیاں دے دو۔کیونکہ ہمارا مقصد صرف روٹیاں