مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 255
255 فرموده ۱۹۷۰ء ، د و مشعل راه جلد دوم دد دکھائی دیا۔وہ معیار مجھے یہاں نظر نہیں آتا۔اس کی طرف بھی آپ کو توجہ کرنی چاہیئے۔کیونکہ پاک باطنی کے لئے پاک ظاہر کا ہونا بھی ضروری ہے وہ تو اس کے لئے بنیاد بنتا ہے افریقن دوست دن میں قریباً دو دفعہ نہاتے ہیں۔افریقہ میں جہاں بھی مجھے پانی نظر آیا وہیں افریقنوں کو میں نے کپڑے دھوتے دیکھا۔یہاں تو آپ کو سفر کرتے ہوئے سینکڑوں پانی کی جگہیں نظر آئیں گی کہ جہاں کوئی کپڑے نہیں دھور ہا ہوگا۔لیکن وہاں تو جہاں بھی پانی ملتا ہے خواہ نالہ ہو یا چشمہ ہو یا حوض ہو وہاں میں نے کثرت سے لوگوں کو کپڑے دھوتے دیکھا ہے۔بعض دفعہ تو میں نے دیکھا کہ نالے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوگ کپڑے دھو رہے ہوتے تھے۔غرض وہ بالکل صاف ستھرے رہتے ہیں۔غریب آدمی کو کپڑے دھونے پر تو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا البتہ محنت کرنی پڑتی ہے۔توجہ دینی پڑتی ہے۔پس آپ سب اس طرف بھی توجہ دیں۔اگر آپ افریقنوں جتنے صاف ہو جائیں بحیثیت جماعت تو اس وقت تو لوگ آپ کو سامنے سے دیکھ کر پہچانتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو ایک نور عطا فرمایا ہے اس نور کو کوئی چھین نہیں سکتا اگر لوگ احمدی کو سامنے سے دیکھ لیں تو ان کو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ احمدی ہے پھر وہ آپ کو دور سے دیکھ کر پہچانے لگ جائینگے خواہ آپ کا منہ ان کی طرف ہو یا نہ ہوا ور کہیں گے اتنا صاف ستھرا سوائے احمدی کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔پس اپنے آپ کو نمایاں کریں۔ہمدردی مخلوق کا جذ بہ بھی ہونا چاہیے اور پاک باطنی بھی ہونی چاہیئے اور پھر دسویں بات اکل حلال ہے یہ تو پہلی چیز ہے۔میں نے بتایا ہے کہ طیب کی دراصل شرط ہے۔لیکن حلال کے بغیر تو طیب ہوتا ہی نہیں۔اب یہ گندی عادت ہے۔میں چھوٹی سی مثال دے دیتا ہوں باقی چیزیں آپ خود سوچ لیں۔گاؤں میں ہر خاندان کا گنے کا کھیت ہوتا ہے۔قریباً ایک جتنے گئے کھائے جاتے ہیں۔کوئی فرق نہیں پڑتا۔مگر بعض دفعہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک خاندان کے بچے دوسرے خاندان کے کھیت سے گنے تو ڑ کر کھا جاتے ہیں اور اس خاندان کے بچے اس پہلے خاندان کے کھیت میں سے کھا لیتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ اپنے اپنے کھیت سے کھاتے تو انہیں کوئی نقصان نہ ہوتا بلکہ اکل حلال ہو جاتا۔اس لئے بغیر اجازت کسی دوسرے کا حق نہیں مارنا چاہیئے۔یہ حرام کے اندر آ جاتا ہے۔یہاں بھی منظمین اجتماع یہ کرتے ہیں مجھے رپورٹ ملتی ہے اور خوشی ہوتی ہے۔بعض دفعہ ممکن ہے ایسا نہ ہوتا ہو لیکن قادیان میں جب بھی مجلس خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہوا وہاں بالعموم لڑے میدان میں اجتماعات ہوتے تھے اور وہاں نہ کوئی چیز بنی ہوئی ہوتی تھی نہ وہاں کوئی کام کر رہا ہوتا تھا لیکن وہ جگہ جس کی ملکیت ہوتی تھی اس سے ہی با قاعدہ تحریری اجازت نامہ لیا کرتا تھا اور پھر وہاں کیمپ کرتا تھا کیونکہ مالک کا یہ حق ہے کہ وہ ہاں کرے یا نہ کرے اور میرا یہ فرض ہے کہ میں اس سے پوچھوں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا کہ دوسرے کی چیز کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کروں خواہ وہ کھلا میدان ہی کیوں نہ ہو۔پس اکل حلال کا صرف یہ مطلب نہیں ہوتا کہ چوری نہ کرو بلکہ بہت ساری بار یک باتیں ہیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔مثلا کسی دوسرے کے کھیت سے گنے کھانا ہے یا مولیاں کھا جانا ہے۔اس قسم کی اور بہت سی چیزیں ہیں۔دوسرے کے گھر کی بیری کی شاخیں باہر لٹکی