مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 254
فرموده ۱۹۷ء 254 د و مشعل راه جلد دوم سے میرا منہ دیکھتا رہے یہ تو ٹھیک نہیں ہوگا۔پھر میں نے اس سے وضاحت سے پوچھا کہ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ با قاعدہ فارمل طریقے پر ہاتھ اٹھا کر اسی وقت دعا کروں وہ کہنے لگا۔ہاں میرا یہی مطلب ہے۔چنانچہ میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو وہ بھی اس میں اپنے طریق پر شامل ہوا اور دعا کرتا رہا۔میں نے اس سے کہا کہ میں نے اپنے ایک افریقن احمدی دوست سے یہ اظہار کیا ہے (ابھی مجھے وہاں چند دن ہوئے تھے اس عرصہ میں میں نے جو مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سب کچھ دیا تھا مگر یہ غیر اقوام تم سے سب کچھ چھین کر لے گئیں۔میں نے جب اس سے یہ بات کہی تو وہ بے اختیار کہنے لگا۔How true you are! How true you are! کیسی سچی بات آپ کہہ رہے ہیں! کیسی سچی بات آپ کہہ رہے ہیں !! پس ہم نے ان کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا۔اگر ہم کسی قوم سے یہ سلوک کریں اور مخلوق خدا کے لئے ہمدردی نہ ہو تو پھر نہ ہم صحیح معنوں میں خادم بن سکتے ہیں نہ جماعت احمد یہ اپنا مقصد اور مشن پورا کر سکتی ہے اور جو آپ کے نفس کا یہ حق ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو قوتیں دی ہیں ان کی نشو و نما کمال کو پہنچے۔اس میں آپ ناکام ہو جاتے ہیں کم از کم اس مسئلہ میں جس کے متعلق میں بات کر رہا ہوں۔نویں بات پاک باطنی یعنی تزکیہ نفس ہے۔یہ بھی بہت ضروری وصف ہے۔ورنہ مذہب فلسفہ بن جاتا ہے۔اور سب سے زیادہ فکر میرے جیسے انسان کو یہی رہتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں پاکیزگی نفس اور تقویٰ پیدا ہو اور وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں، خدا تعالیٰ کے پیار اور اس کے حسن و احسان کی مسرت سے لطف اندوز ہونے کا انہیں چسکا پڑ جائے اور وہ اس کو چھوڑ نہ سکیں تب ہی پاک باطنی قائم رہ سکتی ہے۔شیطان صرف چاروں طرف سے نہیں بلکہ ہزاروں اطراف سے حملہ کرتا ہے۔کبھی انسان کے دل میں تکبر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کبھی ریا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کبھی ایک برائی اور کبھی دوسری برائی میں ملوث کر دیتا ہے۔یہ اس کا کام ہے وہ اس میں لگا ہوا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ شیطان سے نہ ڈرنا البتہ ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ میرے بندے بن جانا۔پھر تمہارے اوپر شیطان کا حملہ کامیاب نہیں ہو گا۔غرض پاکیزگی کا حاصل کرنا از بس ضروری ہے ظاہری پاکیزگی کا بھی دل اور روح اور اخلاق پر اثر پڑتا ہے۔یہاں اتنی ظاہری صفائی نہیں جتنی میں نے افریقہ میں دیکھی ہے۔حالانکہ وہ بڑے پسماندہ علاقے سمجھے جاتے ہیں۔وہاں ہزاروں لوگوں سے میں نے معانقہ کیا سارے دورے کے دوران صرف ایک یادو آدمیوں کے سوائے کسی کے جسم سے مجھے پسینے کی بدبونہیں آئی اور ہزاروں میں سے ایک یا دو کا ہونا تو استثنائی صورت رکھتا ہے۔بعض دفعہ بیماری بھی ہوتی ہے جسے بغل گن“ کہتے ہیں یا بعض دفعہ کسی اور رنگ کی بدبو کی بیماری ہوتی ہے لیکن یہ استثنائی صورت ہے۔میرے خیال میں ایک لاکھ کے قریب احمدیوں سے ملاقات ہوئی ہے۔ہزاروں سے میں نے معافقے کئے ہیں اور سینکڑوں بچوں کو میں نے اٹھا کر پیار کیا ہے۔مجھے تو ہر ایک ظاہری طور پر صفائی کے لحاظ سے صاف ستھرا