مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 256
د د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۰ء 256 ہوئی ہیں، چھوٹے بچوں کو سنبھالنا چاہیئے اور انہیں سمجھانا چاہیئے کہ دس بیر بغیر اجازت کے کھا کر اس کے جسم کی نشو و نما تو شاید ہو جائے لیکن غیر کے بیراجازت کے بغیر کھا کر اس کی روح بیمار ہو جائے۔حالانکہ اگر گھر والوں سے پوچھ لیا جائے تو وہ کبھی نہیں کہیں گے کہ نہ کھاؤ اور شوق سے اجازت دے دیں گے۔میں نے کالج میں باغ لگوایا۔اس کے انچارج بڑے تیز قسم کے آدمی تھے ایک دن وہ میرے پاس آگئے کہ کالج کے بعض لڑکوں نے پھل توڑا ہیں۔میں نے پہلے یہ سوچا تھا کہ اگر میں منع کروں اور یہ کھا لیں تو گنہگار ہوں گے اور اگر میں اجازت دے دوں اور وہ حسب مرضی کھالیں تو گنہگار نہیں ہوں گے کیونکہ اس طرح تو وہ اپنی چیز کھارہے ہوں گے۔میں نے اسے جواب دیا کہ یہ باغ میں نے تو لگایا ہی ان بچوں کے لئے ہے تمہیں کیوں غصہ آ رہا ہے۔ان کا باغ ہے جب ان کی مرضی ہو اس سے پھل کھائیں۔تم ان کو صرف یہ سمجھا دیا کرو کہ مثلاً امرود ہے وہ کچا نہ کھایا کریں یہ بیمار کر دیتا ہے۔پک جائیگا انہی کی چیز ہے بڑے شوق سے آ کر کھائیں۔اب تو شاید ٹھیکے پر دینے لگ گئے ہیں لیکن کچھ درخت بچوں کے لئے ضرور مخصوص ہونے چاہیئے۔پہلے حق ان کا ہے۔گیارہویں بات صدق مقال یعنی سچی بات کہنا ہے یہ بھی بڑی بنیادی چیز ہے۔کہتے ہیں جھوٹ کا بچہ ہوتا ہے۔ایک دفعہ کوئی آدمی جھوٹ بول لے تو اس کا سلسلہ پھر پتہ نہیں کہاں تک چلتا ہے۔اس کو چھپانے کے لئے ایک دوسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔پھر اس کو چھپانے کے لئے ایک تیسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔مگر جو آدمی سچ بول رہا ہوتا ہے اس کو تو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔کیونکہ اس کی تربیت کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔ابھی حال ہی میں ایک بڑے افسر سے میری ملاقات ہوئی۔میں نے ان سے کہا کہ ہماری جماعت تو ایسی ہے کہ اگر ہم غلطی سے قانون شکنی کر دیں اور آپ کو ہم Convince ( کنونس) نہ کرواسکیں کہ ہم نے قانون نہیں تو ڑا ہماری نیت کھوئی نہیں تھی۔ہم امن پسند جماعت ہیں۔لیکن بہر حال خدا ہونے کا تو ہمارا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ایک احمدی بعض دفعہ غلطی بھی کر سکتا ہے اگر وہ کبھی ایسا کر دے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ اس کا یہ حق پورا کریں کہ جس نے کوئی غلطی کی ہے۔بہر حال اس کا حق ہے کہ اس سے دریافت کیا جائے اور اُسے اپنی برات کا موقعہ دیا جائے اور برکت کا موقعہ دینے کے بعد بھی اگر آپ سمجھیں کہ واقعی اس نے قانون شکنی کی ہے تو وہ بشاشت کے ساتھ دو میں سے ایک راستے کو اختیار کرے گا۔اگر آپ معذرت ضروری اور کافی سمجھتے ہوں تو وہ معذرت کرے گا اور اگر آپ سزا دینا ضروری سمجھتے ہیں تو وہ بشاشت کے ساتھ سزا لے گا۔مگر جھوٹ نہیں بولے گا لیکن اس کا یہ حق اسے ملنا چاہیے کہ اس سے یہ پوچھ لیا جائے کہ تم نے ایسی غلطی کی ہے یا نہیں۔اب رپورٹیں کرنے والے تو ایسی رپورٹیں بھی کر جاتے ہیں جو حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔میں اگست کے آخر میں ایبٹ آباد سے چند دنوں کے لئے یہاں آیا ہوا تھا۔میں نے یہاں ایک خطبہ بھی پڑھا جس میں نے براڈ کاسٹنگ سٹیشن کا ذکر کیا۔جس کے متعلق میں اس سے پہلے بھی اپنی تقریروں اور خطبات میں کئی بار ذکر کر چکا ہوں کہ یہ ٹیشن افریقہ میں لگانے کا پروگرام ہے اور اس کے متعلق میرے خیال میں آپ میں سے جو دوست اخبار پڑھتے ہیں۔ہر ایک