مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 222
دو مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷ء 222 جد و جہد کرنا کس درجہ اہم ہے۔اور یہ کہ اس جدو جہد کو کامیابی سے جاری رکھنے اور اسے مثمر ثمرات بنانے کا اسلامی طریق کیا ہے؟ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے تذکرے ہر شخص کی زبان پر ہیں۔میں اس کے خلاف نہیں ہوں اور نہ اس سے بے رخی برتنے کا قائل ہوں اور میں اس سے بے رخی برت بھی کیسے سکتا ہوں۔جب کہ میں جانتا ہوں کہ خدائے قادر مطلق نے آسمانوں اور زمین کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسان انہیں مسخر کر کے ان سے فائدہ اٹھائے۔اور ان کی تسخیر بجز اس کے کیسے ممکن ہو سکتی ہے کہ علم حاصل کرنے میں صبر، ہمت اور استقلال سے کام لیا جائے اور پھر اس حاصل کردہ علم کو انسانی زندگی کی فلاح و بہبود نیز اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مقصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جائے۔الہذا میں سب سے پہلے تو حصول تعلیم کی جدو جہد میں آپ کی کامیابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس جدوجہد میں بامراد کرے۔خواہ آپ قوانین قدرت اور ان کی کارفرمائی سے متعلق سائنسی علوم کا مطالعہ کر رہے ہوں یا پھر سوشل سائنس ، تاریخ اور ادب وغیرہ مضامین کے مطالعہ میں مصروف ہوں یا عملی اور پیشہ ورانہ سائنس کے مطالعہ میں منہمک ہوں یاد مینیاتی اور مذہبی سائنس میں درک حاصل کرنا آپ کا مطمع نظر ہو۔الغرض علم کے کسی بھی شعبہ میں آپ مصروف کار ہوں میری دلی تمنا اور دعا ہے کہ تحصیل علم کے ہر میدان میں آپ کا قدم ترقی کی طرف بڑھتا چلا جائے اور کامیابی آپ کے قدم چومے۔اس میں شک نہیں کہ علمی میدان میں ترقی کرنے اور کرتے چلے جانے کے لئے جدو جہد کرنا دنیا بھر کے نو جوانوں کا خصوصی حق ہے۔لیکن اس ضمن میں جو بات میں آپکے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ سچائی یا صداقت ہی کا دوسرا نام علم ہے اور یہ کہ اسے حاصل کرنے کی مساعی اور جد و جہد کا ایک وہ طریق بھی ہے جس کی اسلام نشاندہی کرتا ہے۔میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ اسلام کے پیش کردہ طریق کو اپنائیں اور پھر خود تجربہ کر کے دیکھیں کہ علمی جد و جہد کے بار آور ہونے کے لحاظ سے یہ بہترین طریق ہے یا نہیں۔علمی ترقی کو مثمر ثمرات بنانے کا اسلامی طریق حصول علم کی جد و جہد کو بار آور کرنے کے سلسلہ میں اسلام نے جو طریق پیش کیا ہے۔وہ دعا کے ذریعہ استمداد کا طریق ہے۔میں ابھی آپ کو بتاؤں گا کہ دعا سے فی الاصل میری کیا مراد ہے؟ اور جب کہ آپ مطالعہ اور تحقیق کے میدان میں مصروف کار ہیں میں اس مخصوص طریق کو اپنانے کی طرف آپ کو کیوں متوجہ کر رہا ہوں؟ میرا نظریہ یہ ہے کہ آڑے وقتوں میں جب کہ علمی تحقیق کے دوران تمام راستے مسدود نظر آنے لگتے ہیں اور عقل اندھی اور بے بس ہو کر رہ جاتی ہے علم حقیقی تک رسائی دعا کے ذریعہ ہی ہوتی رہی ہے۔بڑے بڑے دریافت کنندہ موجد اور عظیم سائنسدان دنیا میں ایسے گزرے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ