مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 223

223 فرموده ۱۹۷۰ء د و مشعل راه جلد دوم دد عقدہ کشائی کی گواہی دی ہے۔لیکن آپ بجا طور پر ایسے سائنسدانوں کی بھی نشاندہی کر سکتے ہیں جو سرے سے اللہ تعالی کی ہستی پر ایمان ہی نہیں رکھتے یا اس قسم کے ایمان کو چنداں اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی وہ دعا اور اس کی اہمیت کے قائل ہیں۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ بات صحیح ہے۔یقین دنیا میں اس قسم کے سائنسدان بھی موجود ہیں۔لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ایسے موجدوں اور سائنسدانوں کو بھی بسا اوقات غیب کے دروازے کو اس التجا اور درخواست کے ساتھ کھٹکھٹانا پڑا ہے کہ وہ اپنے غیب کے بعض راز ان پر منکشف کر کے ان کی عقدہ کشائی کرے۔مشکل وقت میں غیبی مدد کے لئے ان کی یہ تڑپ اور لگن اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان رکھنے والے کی دعا سے بلحاظ مقصد و مدعا چنداں مختلف نہیں ہوتی۔ایمان رکھنے والا یقین پر قائم ہو کر خدا تعالیٰ سے استمد ادکرتا اور اکثر اس کی جناب سے اپنی مراد پاتا ہے۔وہ تجربہ کی رو سے جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندے کی پکار کوسنتا اور اس کے جواب میں رجوع برحمت ہوتا ہے اور اسے اپنے افضال وانعامات سے نوازتا ہے۔ایمان نہ رکھنے والا بھی آڑے وقت میں غیر شعوری طور پر غیب سے استمد اد کا طالب ہوتا ہے اور بسا اوقات وہ بھی جناب الہی سے اپنی مراد کو پالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان رکھنے والا اور ایمان نہ رکھنے والا دونوں ہی استمداد کے لئے غیب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دونوں ہی کو مدددی جاتی ہے۔صرف فرق اتنا ہے کہ ایمان نہ رکھنے والا نہیں جانتا جب کہ ایمان رکھنے والا جانتا اور اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ وہ غیبی مددجس کے وہ دونوں میجی ہوتے ہیں اور جو انہیں میسر بھی آجاتی ہے قادر مطلق خدا کی طرف سے ہی آتی ہے جو ہم سب کا خالق اور پر وردگار ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان رکھنے والا اور ایمان نہ رکھنے والا دونوں ہی اس امید کے ساتھ دعا کا سہارا ڈھونڈتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں سے ان کی دستگیری ہوگی اور اس طرح عقدہ کشائی کی صورت نکل آئے گی۔ایمان نہ رکھنے والے کو خود اس کا علم نہیں ہوتا کہ وہ دعا کرتا ہے نہ اسے یہ پتہ ہوتا ہے کہ وہ کس کے حضور دعا مانگتا ہے اور نہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کونسی ہستی ہے جو اس کی دعا کوسنتی اور اسے قبولیت کے شرف سے نوازتی ہے۔برخلاف اس کے ایمان رکھنے والا اپنے لیے تجربہ کی بناء پر جانتاہے کہ وہ دعا کرتا ہے اور کرتا بھی ہے اپنے خالق و مالک اور اپنے آقا سے جو اس پر عم اور تحقیق و دریافت کے دروازے کھولتا ہے۔سوگو یا ایمان نہ رکھنے والا لاعلمی میں دعا مانگ رہا ہوتا ہے اور ایمان رکھنے والا یقین اور اعتماد کے ساتھ اپنے قادر و توانا خدا کو پکار رہا ہوتا ہے۔دونوں ہی کی دعائیں قبولیت کے شرف سے نوازی جارہی ہوتی ہیں لیکن کتنا فرق ہے دونوں کی دعاؤں میں! اور وہ کتنی مختلف ہوتی ہیں ایک دوسرے سے! ہماری علمی پسماندگی اور اس کا علاج دونوں کی دعاؤں کا یہ باہمی فرق ہی ہے جس کی طرف فی الوقت میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔فرق یہ ہے کہ اگر تم عرفان ، اعتماد، بھروسہ اور یقین کے ساتھ دعا کرتے ہو تو اس امر کا زیادہ امکان ہے کہ تمہاری دعاسنی