مسیح کشمیر میں — Page 43
43 نہ ہوں اور میں بچایا جاؤں۔چونکہ وہ خدا ترس اور نیک تھا اس لئے خدا نے اسکی دعا سن لی اور صلیب کی موت سے بچالیا۔البتہ اس حادثہ کے وقت انہوں نے دکھ اٹھایا اور اس ابتلا سے سبق حاصل کیا اور اس کے نتیجہ میں کامل ہوا اور لوگوں کی نجات کا باعث انکی فرمانبرداری کی وجہ سے بنا، نہ صلیبی موت کی وجہ سے جیسا عیسائیوں کا خیال ہے۔انا جیل کی رو سے حضرت یسوع مسیح صرف تین گھنٹے صلیب پر رہے۔(لوقا باب 23 آیات 44 تا 46) اتنی تھوڑی دیر میں حضرت مسیح مر نہیں سکتے تھے۔پھر آپ کو ششی کی حالت میں صلیب سے اتار کر آپ کے ہمدردوں نے ایک ہوا دار کمرہ نما قبر میں رکھا جو چٹان میں کھدی ہوئی تھی۔(لوقا ایضاً ) تین دن کے بعد صبح نڑ کے وہ قبر سے اٹھ کر چلے گئے اور ایسینی برادری کے ہمدردانہیں یہاں سے کسی محفوظ مقام پر لے گئے۔پھر جب ہفتہ کے دن کچھ عورتیں مسیح کی قبر پر آئیں تو اس پتھر کو جو قبر کے دہانہ پر رکھا گیا تھا اپنی جگہ سے لڑھکا ہوا پایا اور اندر دیکھا تو یسوع مسیح کی لاش موجود نہ تھی۔(لوقا ایضاً) مسیح اٹھ کر یہاں سے چلے گئے تھے۔پھر اسی دن میروشلم سے سات میل کے فاصلہ پر دو آدمی یسوع کے بارے میں راستہ میں بات چیت کرتے جا رہے تھے تو ایسا ہوا کہ یسوع آپ نزدیک آکر ان کے ساتھ ہولیا اور ان سے سب ماجرا پوچھا۔مگر وہ آدمی یسوع کو پہچان نہ سکے۔یہاں تک کہ وہ اس گاؤں میں شام کو پہنچے جہاں جانا چاہتے تھے جب روٹی کھا بیٹھے تو انہوں نے مسیح کو پہچان لیا اور انکی آنکھیں کھل گئیں مگر مسیح جلد ہی یہاں سے غائب ہو گئے۔(لوقا باب 24) اس بات کا مزید ثبوت کہ حضرت مسیح نے صلیبی موت سے نجات پائی اور محض روح یا کسی دوسرے بدن کیساتھ جس کے ساتھ وہ مصلوب ہوئے ، حواریوں کو دکھائی دئے۔ان کے ساتھ کھانا کھایا اور پانی پیا اور انہیں اپنے صلیبی زخم دکھلا دکھلا کر یقین دلایا کہ بے یقین مت ہو، شک مت کرو، میں وہی یسوع ہوں ، دیکھو روح نہیں ہوں کیونکہ روح کی ہڈی اور گوشت نہیں ہوتے۔انا جیل میں یہ بیانات موجود ہیں۔چنانچہ یوحنا کی انجیل میں ہے۔دوسرے شاگردوں نے اس سے ( تو ما سے ) کہا کہ ہم نے خداوند کو دیکھا ہے مگر اس نے ان سے کہا جب تک میں اسکے ہاتھوں میں مینوں کے چھید نہ دیکھ لوں اور میخوں کی جگہ اپنی انگلی نہ ڈال لوں اور اپنے ہاتھ کو اس کی پسلی میں نہ ڈال لوں ہرگز یقین نہ کروں گا۔آٹھ روز کے بعد اسکے شاگرد پھر اندر تھے اور تو ما انکے ساتھ تھا گو دروازے بند تھے تو بھی یسوع آیا اور بیچ میں کھڑا ہو کر بولا۔تمہیں سلامتی حاصل ہو۔ایضاً سے مراد وہ حوالہ ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔