مسیح کشمیر میں — Page 42
باب چهارم 42 انجیلوں میں حضرت مسیح کے دور دراز اور محفوظ علاقہ میں جانے کا ذکر یہ تو ہزار سال پہلے کی پیشگوئیاں ہیں جو داؤد و سلیمان علیہم السلام کی تھیں اور ایک پیشگوئی اب سے سینکڑوں سال پہلے یسعیاہ نبی نے کی تھی اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح نے کس طرح ان پیشگوئیوں کی تکمیل کی اور کس طرح ان کا ایک ایک لفظ حضرت مسیح کے وجود میں پورا ہوا۔جس سے معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح کو خدا نے بذریعہ وحی والہام خبر دی تھی کہ وہ صلیب کی غیر طبعی اور لعنتی موت سے بچالئے جائیں گے اور آسمان پر نہیں بلکہ ایک دور دراز اور محفوظ اور جنت نظیر چشموں والے علاقہ میں پناہ دیئے جائیں گے۔جہاں انکے دشمن نہیں پہنچ سکتے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جس علاقہ میں میں جاؤں گا وہاں کے لوگ مجھے قبول کرینگے اور ایمان کے ذریعہ دوبارہ زندہ ہونگے اور مغرب و مشرق کے دیندار لوگ ایک ہی جماعت کے لوگ کہلائیں گے۔یعنی دینی اتحاد کے لحاظ سے ایک ہی گلہ کہلائیں گے۔چنانچہ یوحنا کی انجیل باب 8 آیت 21 میں ہے کہ حضرت مسیح نے فلسطین میں ایک وعظ کے دوران فرمایا۔میں جاتا ہوں تم مجھے ڈھونڈو گے اور اپنے گناہ میں مرو گے۔جہاں میں جاتا ہوں تم نہیں آ سکتے۔“ اسی طرح باب 10 آیت 16 میں فرمایا ”میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں مجھے انکو بھی لانا ضرور ہے وہ میری آواز کوسنیں گی پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہوگا۔“ صلیبی موت سے نجات، حواریوں سے ملاقات اور مشرق کی طرف ظہور انا جیل میں حضرت عیسی کے صلیبی موت سے بچنے کی صراحت موجود ہے۔چنانچہ عبرانیوں باب 5 آیت 7 تا 9 میں ہے۔اس نے (صحیح نے) اپنے جسم کے دنوں میں بہت رو رو اور آنسو بہا بہا کر اس سے جواسے موت سے بچاسکتا تھا دعا ئیں اور منتیں کیں اور خدا ترسی کے سبب سے اسکی سنی گئی۔اگر چہ وہ بیٹیا تھا پر ان دکھوں سے جو اس نے اٹھائے فرمانبرداری سیکھی اور کامل ہو کر اپنے سب فرمانبرداروں کیلئے ابدی نجات کا باعث ہوا۔“ عبرانیوں کی یہ آیات صاف بتلا رہی ہیں کہ حضرت مسیح نے روروکر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے جو اسے صلیب کی لعنتی موت سے بچا سکتا تھا دعائیں کیں اور اسکی منتیں کیں کہ یہودی میری جان لینے میں کامیاب