مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 34 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 34

34 34 ہوگئی۔(ص103 ) زبور باب 69 آیت 1-2 میں فرمایا: ”اے خدا! تو مجھے کو بچالے کیونکہ پانی میری جان تک آپہنچا ہے۔میں گہری دلدل میں دھنسا جاتا ہوں جہاں کھڑا نہیں رہا جا تا۔میں گہرے پانی میں آپڑا ہوں جہاں سیلاب میرے سر پر سے گزرتے ہیں۔“ آیت 4 میں ہے ”وہ مجھ سے بے سبب عداوت رکھنے والے میرے سر کے بالوں سے بھی زیادہ ہیں ، میری ہلاکت کے 66 خواہاں اور ناحق زبردست ہیں۔“ آیت 21 میں ہے۔انہوں نے مجھے کھانے کو اندرائن ( پت ) بھی دیا اور میری پیاس بجھانے کو انہوں نے مجھے سرکہ پلایا۔“ آیت 20 میں ہے ملامت نے میرا دل توڑ دیا میں بہت اداس ہوں اور میں اسی انتظار میں رہا کہ کوئی ترس کھائے پر کوئی نہ تھا اورسلی دینے والوں کا منتظر رہا پر کوئی نما“ اس زبور کو بھی عیسائیوں نے متعلق با مسیح لکھا ہے کیونکہ جب مسیح صلیب پر لٹکائے گئے اور انکی زبان اور ان کا منہ خشک ہو گیا تو انہوں نے پانی کی خواہش کی مگر سپاہیوں نے پانی نہیں دیا۔صرف ایک سپاہی نے سرکہ میں بھگوئی ہوئی چھڑی آپ کے منہ اور ہونٹوں کے ساتھ لگائی۔اس طرح ” پت“ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ کڑوی قسم کی خوراک تھی۔گویا خود مسیح نے آکر اس پیشگوئی کو پورا کیا۔زبور 113 میں ہے کہ انہوں نے مجھے شہد کی مکھیوں کی طرح گھیر لیا۔(آیت 12) زبور 119 میں ہے کہ انہوں نے مجھ سے ٹھٹھے کیے پر میں نے تیری شریعت اور تیرے احکام سے کنارہ نہیں کیا۔“ ( آیت 51) زبور باب 119 آیت 116 میں ہے۔تو اپنے کلام کے مطابق مجھے سنبھال ! تا کہ میں نہ مروں بلکہ زندہ رہوں اور مجھے اپنے اعتماد سے شرمندگی نہ اٹھانے دے!“ زبور 116 آیت 16-17 میں فرمایا ' آہ! اے خداوند میں تیرا بندہ ہوں ، میں تیرا بندہ تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔تو نے میرے بندھن کھولے ہیں۔میں تیرے حضور شکر گزاری کی قربانی چڑھاؤں گا اور خداوند سے دعا کروں گا۔“ زبور 42 کو خود مسیح نے استعمال کیا اور صلیب سے قبل ایک ہفتہ تک وہ اور اسکے حواری اس زبور کو پڑھتے اور گاتے رہے، جو یہ ہے۔" جیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے ویسے ہی اے خدا ! میری روح تیرے لیے ترستی ہے۔میری