مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 35 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 35

35 روح خدا کی ، زندہ خدا کی پیاسی ہے۔میں کب جا کر خدا کے حضور ( یعنی موعود ہیکل میں ) حاضر ہوں گا۔میرے آنسو رات دن میری خوراک ہیں جس حال میں وہ مجھ سے برابر کہتے ہیں تیرا خدا کہاں ہے؟ ( آیت 1 تا 4)اے میرے خدا! میری جان میرے اندر گری جاتی ہے۔( آیت 6) میں خدا سے جو میری چٹان ہے کہوں گا تو مجھے کیوں بھول گیا، میں دشمن کے ظلم کے سبب سے کیوں ماتم کرتا پھرتا ہوں؟ میرے مخالفوں کی ملامت گویا میری ہڈیوں میں تلوار ہے کیونکہ وہ مجھ سے برابر کہتے ہیں کہ تیرا خدا کہاں ہے "؟ (آیت 9-10) زبور 41 میں بھی زبورنولیس کے دکھوں نظلم اور یہودیوں کے طعن و تشنیع کا بیان ہے اور اسے بھی تفسیر زبور میں متعلق با مسیح کہا گیا ہے اور اس میں گناہ کا بھی اقرار کیا گیا ہے اور کہا ہے ”اے خداوند مجھ پر رحم کر، میری جان کو شفا دیدے کیونکہ میں تیرا گنہگار ہوں۔“ ( آیت 5) زبور 109 میں جو تفسیر زبور کے مطابق با مسیح ہے اور جس میں دکھوں اور مصیبت زدہ مظلوم شخص کی مظلومیت کا بیان ہے دشمنوں پر لعنت ڈالی ہے اور زمین سے دشمنوں کا ذکر مٹا دیے جانے وغیرہ کی پیشگوئیاں بیان ہیں اور اپنی بیکسی، بیچارگی محتاجی، مجروحیت اور کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ ”اے مالک خداوند ! اپنے نام کی خاطر مجھ پر احسان کر۔مجھے دشمنوں سے چھڑا ، میں ٹڈی کی طرح اُڑا دیا گیا۔فاقہ کرتے کرتے میرے گھنٹے کمزور ہو گئے اور چکنائی کی کمی سے میرا جسم سوکھ گیا۔میں انکی ملامت کا 66 نشانہ بن گیا ہوں۔جب وہ مجھے دیکھتے ہیں تو سر ہلاتے ہیں۔اے خداوند میرے خدا! میری مد دکر۔۔۔زبور 35 میں یہودیوں کی بدتمیزیوں ،ٹھٹھوں، جھوٹی گواہیوں اور قسم قسم کی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بتلایا، وہ ملک کے امن پسند لوگوں کے خلاف مکر کے منصوبے باندھتے ہیں اور منہ پھاڑ کر کہا، ہاہاہا! ہم نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا ہے۔اے خداوند! تو نے یہ خود دیکھ لیا ہے۔خاموش نہ رہ! میرے انصاف کیلئے جاگ !‘ اس زبور کو بھی متعلق با مسیح کہا گیا ہے۔تغییر زبور میں پادری بے علی بخش صاحب نے ان زبوروں کے علاوہ زبور نمبر 69، زبور نمبر 109، زبور 35، زبور 55 کو بھی متعلق با مسیح لکھا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ ان میں دکھ اٹھانے والے مسیح کا ذکر ہے اسی طرح زبور 8 زبور 15 وزبور 40 وز بور 16 میں ابن آدم کے نام سے ایسے مصیبت زدہ اور مظلوم اور غمگین و اداس شخص کا ذکر ہے جس کے واقعات و مصائب مسیح کے مصائب و واقعات سے شدید مشابہت رکھتے ہیں اور انا جیل میں مسیح نے اپنا نام ابن آدم بھی بتایا ہے۔( یوحنا باب 12 آیت 34)