مسیح کشمیر میں — Page 33
33 رویاء میں دکھلا دیا تھا۔پھر آپ کو ان دعاؤں کی قبولیت کے سلسلے میں مسیح کا دشمنوں اور صلیب کی موت سے بچایا جانا اور ایک دور و دراز جنت نظیر پہاڑی علاقہ میں پناہ لینے کا نظارہ بھی دکھلا دیا گیا تھا جس پر انہوں نے خوشی اور مسرت پر مشتمل گیت اور حمدیہ زبور پڑھے اور خدا کی تحمید اور تمجید اور تسبیح بیان کی اور دوسروں کو بھی اسکی ہدایت کی کہ بربط اور ستیار کے گاؤ، جوان، بوڑھے، مرد اور عورتیں اور بچے سب خدا کی حمد و تمجید کریں کیونکہ اس نے میرے آنے والے دکھی فرزند کوموت سے بچالیا ہے۔مثلا ز بور 22 آیت 22 تا29 جسے عیسائی اعلیٰ طور پر متعلق با مسیح لکھتے ہیں۔حضرت داؤد اللہ تعالیٰ سے وہی دعا مانگتے ہیں جو مسیح نے صد ہا سال بعد صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت مانگی جو ان الفاظ میں ہے۔”اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ مجھ سے دور نہ رہ ! (زبور باب 22 آیت 1) بدکاروں کے گروہ مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔وہ میرے ہاتھ اور پاؤں چھید تے ہیں میں اپنی سب ہڈیاں گن سکتا ہوں۔وہ مجھے تا کتے اور گھورتے ہیں۔وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں اور میری پوشاک پر قرعہ ڈالتے ہیں۔لیکن تو اے خدا وند ! دور نہ رہ۔اے میرے چارہ ساز ! میری مدد کیلئے جلدی کر۔“ (زبور باب 22 آیت 16 تا 19) اس زبو کو عیسائی بائیلوں میں علی طور پر معلق بامسیح قرار دیا گیا ہے۔یہ عجیب مماثلت ہے کہ خود حضرت مسیح نے صلیب پر غشی طاری ہونے سے پہلے یہی دعا پڑھی تھی اور انکے یہ الفاظ آج تک انا جیل میں مسیح سے منسوب ہیں۔ایلی ! ایلی لِمَا سَبَقَتَانِی (دیکھو انجیل کے آخری ابواب متی باب 27 آیت 46 ومرقس باب 15 آیت 34) 66 د یعنی اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۔۔اس دعا میں ہاتھوں میں کیل ٹھونکنے، بذریعہ قرعہ اندازی کپڑے بانٹنے کا جو ذکر ہے انجیل یوحنا باب 19 آیت 24 میں ہوا ہے کہ یہ واقعات حضرت مسیح کو صلیب پر پیش آئے۔جب رومی سپاہیوں نے صلیب پر لٹکاتے وقت مسیح کے بدن سے اس کے کپڑے پھاڑ کر نکال لیے اور اس کے چٹے کو چار حصوں میں بانٹ لیا لیکن قبا بوجہ بافتہ ہونے کے پھٹ نہ سکی اسلئے اسے قرعہ اندازی سے آپس میں بانٹ لیا۔تفسیر زبور میں پادری بے علی بخش نے لکھا ہے کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح کے وجود میں پوری