مسیح کشمیر میں — Page 106
106 ہیں اور اصحاب کلام سے کلام کیا ہے پس داؤد بن عباس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فقہاء کو جمع کیا۔انہوں نے مجھ سے مناظرہ کیا۔پس میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنے شہر سے اس نبی کی تلاش میں نکلا ہوں جس کا ذکر ہماری کتابوں میں موجود ہے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اس کا کیا نام ہے؟ میں نے جواب دیا محمد ہے تو اس نے کہا وہ تو ہمارا نبی ہے جسے تو ڈھونڈتا ہے۔پس میں نے ان سے اس نبی کی شریعت کے احکام دریافت کئے جو انہوں نے مجھے بتائے۔“ محمد بن شاذلی کی روایت ہے کہ غانم ہندی نے دین اسلام کی سچائی انجیل سے معلوم کی تھی اور (اکمال الدین صفحه 242) 66 ہدایت پائی تھی۔“ صافی شرح اصول کافی میں اس جملہ کی شرح میں کہ ہم ان کے حلال و حرام میں انہیں فتویٰ دیتے تھے لکھا ہے کہ انہیں ان کے مسائل حلال و حرام میں شریعت عیسی پرفتوی دیا کرتے تھے۔“ صافی شرح اصول الکافی کتاب الحجۃ۔ایضاً ) ان حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل اہل کشمیر عیسی علیہ السلام کے مذہب پر تھے اور تورات وانا جیل اور صحیفے پڑھتے تھے اور ان پر کار بند تھے مگر بعد میں وہ مسلمان ہوگئے کیونکہ انکی انجیل میں محمد نامی پیغمبر آنے کی پیشگوئی موجود تھی جس کے وہ منتظر تھے۔جب وہ پیغمبر سرزمین عرب سے مبعوث ہوا تو بعد از تحقیقات وہ اس پر ایمان لا کر مسلمان ہو گئے۔اس حوالہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اسلام سے قبل کشمیری مسیحیوں کی جماعتی تنظیم موجود تھی کیونکہ حوالہ کے مطابق ان کا ایک بادشاہ امیر بھی ہوتا تھا۔عیسائی محققین کی شہادت عیسائی محققین نے بھی لکھا ہے کہ قدیم کشمیر میں میسی بکثرت آباد تھے اور جابجا کلیسا ئیں قائم تھیں۔چنانچہ ایک مشہور عیسائی محقق پادری برکت اللہ ایم۔اے لکھتے ہیں: حال ہی میں شمالی ہندوستان سے بھی اس قسم کی صلیبیں ملی ہیں۔یہ صلیبیں کشمیر کی قدیم قبروں پہاڑیوں کی وادیوں سے دستیاب ہوئی ہیں۔انکی بناوٹ، ان کے نقش و نگار اور الواح کی عبارات کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صلیبیں نسطوری ہیں اور قبریں نسطوری عیسائیوں کی ہیں۔یہ امور ثابت کرتے ہیں کہ قدیم صدیوں میں کشمیر میں بھی عیسائی کلیسا ئیں جابجا قائم تھیں اور وہاں نسطوری مسیحی بکثرت آباد تھے۔“ ( تاریخ کلیسائے ہند صفحہ 157)