مسیح کشمیر میں — Page 105
105 الينا الملك فمن دونه فتجادينا عن رسول الله صلى الله عليه و اله فقلنا هذا النبي المذكور في الكتب قد خفى علينا امره و يجب علينا الفحص عنه و طلب اثره و اتفق راينا و توافقنا على ان اخرج فارقادلهم فخرجت و معی مال جلیل فسرت اننا عشر شهراً حتى قربت من كابل فعرض لى قوم من التركِ فقطعوا على واخذوا مالی و جرحت جراحات شديدة و وقعت الى مدينه کابل فانفذنی مَلِكُها لما وقف على خبرى الى مدينة بلخ و عليها اذذالك داؤد بن العباس بن ابي الاسود فـبـلـغـتـه خبـری و اني خرجت مرقاداً من الهند وتعلمت الفارسية و ناظرت الفقهاء مجلسه وجمع على الفقهاء فناظروني فاعلمتهم أني خرجت من بلدى اطلب هذا النبي الذي وجه الله في الكتب فقال لى من هو و ماسمه فقلت محمد فقال هو نبينا الذي تطلب فسألتهم عن شرائعه فاعلمونی (صافی شرح اصول الکافی کتاب الحجة جزء 3 جلد 3 صفحہ 304 باب مولد صاحب الزمان ) " ترجمہ: ”محمد بن عامری نے ابی سعید خانم ہندی سے روایت کی ہے (اکمال الدین صفحہ 252 میں ہے کہ ایک جماعت نے غانم ہندی سے روایت کی ہے ) کہ اس نے کہا کہ میں ہندوستان کے مشہور شہر اندرون کشمیر میں تھا اور میرے ساتھ اور بھی ساتھی تھے جو بادشاہ کے دائیں طرف کرسیوں پر بیٹھا کرتے تھے اور انکی تعداد چالیس تھی۔یہ سب کے سب چار کتا میں تورات، انجیل ، زبور اور صحف ابراہیم پڑھا کرتے تھے۔ہم لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کیا کرتے اور ان کے حلال اور ان کے احرام میں انھیں فتوی دیا کرتے تھے۔بادشاہ اور لوگ سب ہماری طرف رجوع کرتے تھے۔پس ایک دن رسول اللہ علیہ کا ذکر چل پڑا تو ہم نے کہا کہ اس نبی کا ذکر کتابوں میں موجود ہے اور اسکی حقیقت اب تک ہم پر مخفی رہی۔اسلئے ہم پر واجب ہے کہ ہم اسکی تلاش کریں اور اسکا نشان ڈھونڈیں۔پس ہماری رائے متفق ہو گئی اور ہم نے اس بات پر موافقت کی کہ میں اس کام کیلئے نکلوں اور تلاش کروں۔چنانچہ میں نکل پڑا اور میرے ساتھ کافی مال تھا، میں بارہ ماہ چلتا رہا یہاں تک کہ کابل پہنچا تو بعض ترکوں نے مجھ پر ڈاکہ ڈالا اور میرا مال مجھ سے چھین لیا۔مجھے سخت چوٹیں آئیں ، تب میں شہر کابل میں در آیا۔کابل کے بادشاہ نے میرا حال سن کر مجھے شہر بلخ کی طرف بھیجا جہاں داؤد بن العباس بن ابی الاسود امیر تھا۔میں نے اسے اطلاع بھجوائی کہ میں ہندوستان سے نبی کی تلاش میں نکلا ہوں اور میں نے فارسی زبان سیکھ لی ہے اور فقہاء سے مناظرے کئے