مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 107 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 107

107 اس حوالہ میں کشمیر کے جن قدیم نسطوری عیسائیوں کا ذکر ہے وہ موجودہ عیسائیوں کے عقائد سے مختلف عقائد رکھتے تھے۔وہ نہ تثلیث کے قائل تھے نہ کفارہ کے نہ الوہیت عیسی کے قائل تھے۔وہ حضرت عیسی کی اصل تعلیمات توحید، نماز اور روزہ پر کار بند تھے۔یہی وجہ ہے کہ روم کے پوپ نے انہیں اپنے فرقہ سے الگ کر کے بدعتی قرار دیا تھا اور انھوں نے بھی پاپائے روم سے بوجہ تو حید پر قائم نہ ہونے کے قطع تعلق کر لیا تھا اور مشرقی ملکوں میں پھیل گئے تھے۔جہاں کہیں ایسے عیسائی پائے جاتے ہیں موجودہ عیسائی انہیں نسطوری عیسائی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ اے۔جے ڈوبائے اپنی کتاب ”ہندوستان کو بچے دلی عیسائی بنانا غیر ممکن ہے نامی میں ہندوستان کے قدیم عیسائیوں کی بابت لکھتے ہیں: نسطوری فرقے کے عیسائیوں کی کتاب دعا سریانی زبان میں اب تک ہندوستان میں موجود ہے“ کتاب مذکور صفحہ 22 مطبوعہ لندن 1823ء) اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کی ابتداء تک عیسائیوں کی کتاب دعا یونانی زبان میں نہیں بلکہ سریانی زبان میں ہندوستان کے ان نسطوری عیسائیوں کے پاس موجود تھی، بلکہ ایک اور اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مذہبی امور کیلئے سریانی زبان ہی کی اصطلاحیں رائج تھیں۔چناچہ ”سفر نامہ ہند مصنفہ بار تھولومیو میں لکھا ہے کہ: ”ہندوستان میں تھو ما حواری کے عیسائی اب تک سریانی زبان میں اپنی مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں۔خدا کو الوہا کہتے ہیں ، ہولی گھوسٹ کو روحا، صلیب کو شلیو اور نذر کو قربانا۔“ کتاب مذکور 194-195 ء مطبوعہ لندن 1800ء بحوالہ قبر سیح صفحہ 131) عیسی کے نام کا معبد اور عیسی بار نامی قدیم شہر راجہ ترنگی میں لکھا ہے دوسرا مندر اس نے (سندیمان نے ) اپنے گر وایشان دیو کے نام پر بنوا کر اس کا نام ”ایشی شور“ رکھا۔“ (کتاب مذکور صفحه 187) راج ترنگنی کے انگریزی مترجم مسٹرسٹین نے ایشی شور نامی معبد کے متعلق لکھا ہے کہ اس جگہ کا قدیم 66 نام عیسی بار، عیسا بار، عیسو بار بھی آیا ہے۔“ اسی نام پر موجودہ عشہ بڑ گاؤں آباد ہے۔پنڈت اچھر چند شاہپور یہ نے راج ترنگنی کے اردو ترجمہ