مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 104 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 104

104 باب نهم قدیم کشمیر میں عیسائی مذہب کتاب کی مندرجات کو پڑھ کر شاید یہ سوال ہو کہ جب حضرت مسیح فلسطین سے ہجرت کر کے کشمیر آگئے تھے اور ایک عرصہ تک یہاں رہے تو ان علاقوں میں عیسائی مذہب کیوں موجود نہیں ہے جبکہ مغرب میں عیسائی بکثرت موجود ہیں جہاں حضرت مسیح گئے بھی نہیں۔اس سوال کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ یہ کہ کشمیر میں عیسائی کیوں بکثرت موجود نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ کشمیر کے مسیحی حضرت عیسی کے اصل مذہب پر قائم تھے اور رسول کریم علیہ سے متعلق پیشگوئی کو خوب جانتے تھے اسلئے جب محمد حمد ﷺ کا ظہور ہوا اور انہیں آپ کے ظہور کی خبر پہنچی تو ان لوگوں نے بعد از تحقیقات اسلام قبول کر لیا اور وہ مسلمانوں میں جذب ہو گئے۔اس امر کو ثابت کیا جا چکا ہے کہ کشمیر میں یوز آسف پیغمبر کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔جب اسلام کا ظہور ہوا تو اہل کشمیر کے مسیحی علماء رسول اللہ علیہ کے متعلق تورات وانا جیل کی پیشگوئیوں کا ذکر چل پڑا۔اس پر ان میں اس نبی کی تلاش کا جذبہ پیدا ہوا تو انہوں نے اپنے ایک عالم سمی غانم ہندی کو اس نبی کی تلاش کرنے کیلئے بھیجا۔غانم بلخ میں پہنچا اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق پیشگوئی کا ذکر کیا تو اسے معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگ اس رسول کو پہچان چکے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انکا نام محمد ( ع ) ہے۔تب اس نے بھی اسلام قبول کر لیا اور اسلامی احکام و فرائض معلوم کر کے اہل کشمیر کو بتایا کہ محمد رسول اللہ کو میں نے سچا نبی پایا ہے۔اس پر سب اہل کشمیر نے جو مسیح علیہ السلام کے پیرو تھے اسلام قبول کر لیا۔چنانچہ اس بارہ میں تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کی معتبر کتاب حدیث اصول کافی میں صلى اللهم روایت ہے: عن محمد بن العامري عن أبي سعيد غانم الهندى قال كنت مدينة الهند المعروفه بقشمير الداخلته و اصحاب لى يقعدون على كراسى عن يمين الملك اربعون رجُلاً كلهم يقرء الكتب الاربعة التوراة والانجيل والزبور و صحف ابراهيم نقضى بين الناس و نفتيهم فى حلالهم وحرامهم يفزع الناس