مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 103 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 103

103 اس کتاب پر تبصرہ شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ جرمن فاضل کی یہ کتاب عالمانہ سعی ایک دلچسپ اور نرالا نقطہ نظر پیش کرتی ہے جو عیسائی دنیا کو خود بخود اپنی طرف مبذول کرالے گی۔کیونکہ یہ حیات مسیح کے پُر اسرار پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔فیر قیصر جرمن فاضل کی اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ صلیب کے زخم مندمل ہونے کے بعد حضرت مسیح نے اپنی والدہ حضرت مریم اور اپنے حواری تھوما کی معیت میں مشرق کا سفر اختیار کیا اور بالآخر کشمیر میں مقیم ہو گئے جہاں انہوں نے قدرتی بواعث سے وفات پائی اور سرینگر میں روضہ بل کے زمین دوز حجرے میں مدفون ہوئے۔جب مسیح نے کشمیر میں اقامت اختیار کر لی تو یہاں ہی انکی آئندہ نسل چلی۔66 ٹائمز آف انڈیا میں ” آئندہ انکی نسل چلی کے بعد بریکٹ میں لکھا ہے۔سرینگر کے ایک باشندہ مسمی صاحبزادہ بشارت سلیم خود کو ( حضرت ) عیسی کی اولاد کہتے ہیں اور انکے پاس آج بھی جو شجرہ موجود ہے اس کا سلسلہ نسب حضرت عیسی سے جاملتا ہے۔فیر قیصر ( جرمن فاضل موصوف) لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کو اپنے مشن کے حصہ اول میں حق و راستی اور مذہب عیسائیت کا پیغام اہل اسرائیل کو پہنچانا تھا، لیکن مشن کے ثانوی حصے میں انہیں اسرائیل کے گمشدہ قبیلوں کو تلاش کرنا اور ان میں خدا کے کلمات کو پھیلانا تھا۔حضرت مسیح نے اپنی کشمیر کی زندگی میں بعینہ یہی کوشش اور جدوجہد کی کیونکہ دراصل کشمیر اور افغانستان کے لوگوں کی اصل اسرائیلی ہے۔جرمن فاضل موصوف لکھتے ہیں کہ وہ کشمیر میں یوش مرگ میں ایک ایسے طبقہ سے بھی ملے جو خود کو اولا د اسرائیل کہتے ہیں اور مزار مسیح سے عقیدت رکھتے ہیں اور یہ لوگ سرینگر کے شمال میں واقع موسٹی کے مزار پر بھی نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔جس کے متعلق انکا خیال ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جسد خاکی کا امین ہے۔جرمن فاضل نے لکھا ہے کہ یوز آسف اور مسیح ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں اور اس بارہ میں کشمیر کی تاریخوں کے حوالے پیش کرتے ہیں۔آخر کتاب میں اپیل کرتے ہیں کہ اس بارہ میں یقینی نتائج حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ قبر کوکھول لیا جائے اور ان پر سائنسی تحقیق کی جائے۔اس کیلئے علماء بائیبل کی ایک عالمی کانفرنس بلائی جائے جس میں قدیم زبانوں کے ماہرین ، علوم اسلامیہ کے ماہرین اور تاریخ قدیم کے علماء شامل ہوں۔اس طرح ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جائے گا اور یقینی انکشاف کی صورت پیدا ہوگی۔ٹائمز آف انڈیا 6 نومبر 1977ء JESUS DIED IN KASHMIR p۔165-166