مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 102 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 102

102 حضرت عیسی نے شادی کی اور صاحب اولاد ہو گئے پروفیسر حسنین موصوف کی تحقیق کے مطابق حضرت عیسی نے کشمیر میں آکر شادی کی تھی جو جوس آساف (یوز آسف) کے نام سے بھی مشہور تھا۔ایک ہوٹل کے مالک شاعر بشارت اسلم کا کہنا ہے کہ وہ اس پیغمبر کی ذریت میں سے ہیں۔انکے خاندان کے پاس چمڑے پر لکھی ہوئی ایک دستاویز موجود ہے جو انہیں کشمیر کے قاضی نے 1762ء میں دی تھی۔اس میں یہ عبارت درج ہے کہ مصدقہ ثبوت کی روشنی میں یہاں جوس آساف (یوز آسف) کشمیر کے پیغمبر مدفون ہیں جو عوام میں تبلیغ دین کیلئے آئے تھے۔پروفیسر موصوف لکھتے ہیں کہ عیسائی مغربی مفکرین اگر غور سے کشمیر کی تاریخوں پر نظر ڈالنے کی زحمت گوارا کرلیں تو ان باتوں کی صداقت معلوم کرلیں گے۔ہی پروفیسر حسنین موصوف کا یہ مضمون 1973ء میں جرمنی کے انگریزی اخبار ” ایسٹرن میں شائع ہوا اور اس کا اقتباس روز نامہ مساوات کراچی (پاکستان) نے بھی شائع کیا۔پروفیسر موصوف کی نگرانی میں محمد یبین ایم۔ایل۔ایل۔بی ، پی۔ایچ۔ڈی سرینگر نے ایک کتا بچہ بھی انگریزی میں بنام "RAUZA BAL AND OTHER MYSTRIES OF KASHMIR " 1972ء میں شائع کیا ہے۔اس کتا بچہ میں متعدد دستاویزات کے فوٹو کے علاوہ لداخ کے شہر لیہ میں دو جرمن مشنری ڈاکٹروں مارکس اور فرنیک کی ڈائریوں کے دو اوراق کے فوٹو بھی شامل ہیں جن سے نکولس نوٹو وچ روسی سیاح کے بدھ دستاویزات دیکھنے کی تصدیق ہوتی ہے۔جسے بدھ لاماؤں سے مسیح کی نا معلوم زندگی کے حالات معلوم کر کے اواخر انیسویں صدی میں صلیب کے بعد لداخ کا بھی سفر کیا تھا۔یہ ڈائریاں رورین مشن ہاؤس میں محفوظ ہیں۔پچھلے چند سالوں میں جن محققین نے حضرت عیسی کی زندگی ، صلیبی موت سے نجات ، مشرقی ملکوں کے سفر اور کشمیر میں عیسائی آثار کی موجودگی پر کتابیں لکھی ہیں ان میں ایک جرمن محقق ریندڈیز فیبر قیصر بھی ہیں جنہوں نے JESUS DIED IN KASHMIR مسیح نے کشمیر میں وفات پائی“ کے نام سے کتاب لکھی ہے۔وہ خودسرینگر گئے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے کتاب لکھی اور 1972ء میں شائع کی۔بھارت کے مشہور انگریزی روزنامہ ”ٹائمز آف انڈیا نے بھی 6 نومبر 1977 ء کی اشاعت میں روز نامہ مساوات کراچی 5 نومبر 1973ء (ملخصاً)