مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 101 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 101

101 اور نیک اعمال میں زندگی بسر کریں۔سرفرانس بینگ ہسبنڈ جو کہ حکومت برطانیہ کے نمائندہ ریذیڈنٹ کی حیثیت سے کئی سال کشمیر میں مقیم رہے اور انہوں نے کشمیر کے نام سے انگریزی میں ایک عمدہ کتاب بھی لکھی ہے وہ اپنی اس کتاب میں لکھتے ہیں: قریباً انیس سو (1900) برس گزرے کہ کشمیر میں ایک مقدس ہستی رہتی تھی جس کا نام یوز آسف تھا جس کے وعظ عموماً تمثیلوں میں ہوا کرتے تھے۔ان میں سے اکثر تماثیل وہی تھیں جو حضرت مسیح ناصری اپنے وعظ میں بیان کرتے تھے مثلاً ایک بیج بونے والے کی تمثیل“۔انکی قبر سرینگر میں ہے۔(کشمیر (انگریزی) صفحہ 111) پروفیسر کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے قبر مسیح کی تائید کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے صدر پروفیسر حسنین نے حال ہی میں اپنے مضامین ورسائل مطبوعہ میں بھی قبر مسیح سرینگر کے بارے میں سالہا سال کی اپنی تحقیقات شائع کرائی ہیں ، انہوں نے بھی اس امر کی تصدیق کی کہ تاریخی لحاظ سے یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت مسیح بیت المقدس سے کشمیر آئے اور یہاں وفات پا کر سرینگر کے محلہ خانیار میں دفن ہوئے۔پروفیسر موصوف نے جنہیں امریکہ اور جاپان سے بھی اعزازی ڈگریاں ملی ہیں، مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ہند اس قبر کو کھولنے کی اجازت دیدے تا کہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ اس میں یسوع مسیح کا جسم دفن ہے۔اس پر بہت ہنگامہ ہوا اور سخت احتجاج ہوالیکن پروفیسر موصوف اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے انہوں نے ایک ترکی مصنف کے حوالہ سے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ کے بعد سب سے پہلے ترکی میں آئے جہاں انہوں نے اپنے مشہور شاگرد تھا مس سے ملاقات کی تھی جس کا انتقال مدراس (ہند) میں ہوا تھا۔پروفیسر موصوف نے لکھا ہے کہ آپ ایک چھڑی لے کر کشمیر میں داخل ہوئے اور اپنے پیروؤں کو بھیڑوں سے موسوم کرتے تھے اور آپ کی بہت عظمت کی جاتی تھی۔بسارن میں لوگ ایک قسم کا لوشن بیچتے ہیں جسے JESUS CREAM کا نام دیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ وہی تیل ہے جس سے حضرت عیسی زخمیوں کا علاج کرتے تھے۔عیش مقام کے قریب ایک خانقاہ میں ایک عصا موجود ہے۔اس خانقاہ کے راہبوں کا عقیدہ ہے کہ یہ حضرت عیسی کا عصا ہے۔حضرت مسیح نے فارس و ہند میں جو تعلیمات پیش کیں وہ اس سے قبل گزرچکی ہیں۔