مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 572
544 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مختلف امور کے بارہ میں استفسارات ارسال کئے۔اس لئے حضورانو رایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اپریل اور 15 اپریل 2011ء کو اسی موضوع پر خطبات ارشاد فرمائے۔ذیل میں ان خطبات سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔احمدی کی ذمہ داری یکم اپریل کے خطبہ جمعہ کی ابتدا میں حضور انور نے 25 فروری کے خطبہ کا حوالہ دے کر موجودہ حالات میں احمدیوں کو اپنی ذمہ داری کے ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: فروری کے آخری جمعہ میں میں نے خطبہ میں عالم اسلام کے لئے دعا کی تحریک کرتے ہوئے احمدی کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہمارے پاس ذرائع نہیں ہیں، طاقت نہیں ہے، مسلمان ملکوں کے بادشاہوں تک کھل کر براہ راست آواز نہیں پہنچا سکتے کہ انہیں سمجھا ئیں کہ تم اپنے بادشاہ ہونے یا حکمران ہونے کا صحیح حق ادا کرو۔چند جگہوں پر ہوسکتا ہے کسی ذریعہ سے آواز پہنچ جائے لیکن واضح پیغام پہنچ سکے کہ نہ یہ علم نہیں۔بہر حال یہ میں نے اس لئے کہا تھا کہ احمدی جو دعا پر یقین رکھتے ہیں انہیں دعا کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان حکمرانوں کو عقل دے اور یہ اسلامی ممالک ہر قسم کی شکست وریخت سے بچ جائیں۔اسی طرح عوام کو بھی پیغام تھا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور اپنے ملکوں کو شدت پسندوں کی یا غیروں کی جھولی میں نہ گرا ئیں۔بہر حال میں اس خطبہ میں ان ملکوں میں رہنے والے احمدیوں کو بھی دوبارہ پیغام دیتا ہوں، پہلے بھی پیغام دیا تھا کہ دعاؤں کی طرف توجہ دیں اور جس حد تک دونوں طرف کو یہ عقل دلا سکتے ہیں دلائیں کہ شدت پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور جوسب سے بڑا ہتھیار ہے وہ دعا ہے۔احمدیوں کی اکثریت نے اس پیغام کو سمجھ لیا تھا اور اللہ کے فضل سے احمدی تو عموماً اس توڑ پھوڑ میں حصہ نہیں لیتے۔اس لئے انہوں نے عموماً نہ فساد میں حصہ لیا ، نہ جنگ و جدل میں حصہ لیا۔“ حکمران کی غلط پالیسیوں پر کہاں تک صبر کیا جائے؟ حضور انور نے فرمایا: