مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 573
545 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم بعض ایسے بھی ہیں جن کے ذہنوں میں سوال اٹھتے ہیں کہ ہم جابر اور ظالم حکمران کے خلاف یا اس کی غلط پالیسیوں کے خلاف کس حد تک صبر دکھائیں؟ کیا رد عمل ہمارا ہونا چاہئے؟۔۔۔۔اور کس حد تک احمدیوں کو باقی عوام کے ساتھ مل کر اس شدت پسندی میں شامل ہونا چاہئے جس کا رد عمل عوام دکھا رہے ہیں۔یا حکومت کے خلاف جلوسوں میں شامل ہونا چاہئے۔۔۔اور کس حد تک ظلموں کو برداشت کریں؟ سب سے بنیادی چیز قرآن کریم ہے۔۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا۔۔۔۔۔۔ہے کہ وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْى (نحل: 91) اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر قسم کی بے حیائی ، ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے تمہیں اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔اس حکم میں خیال نہیں آ سکتا کہ ایک طبقے کو حکم ہے اور دوسرے طبقے کو نہیں ہے۔اس آیت کی مکمل تفسیر تو اس وقت بیان نہیں کر رہا، صرف بغاوت کے لفظ کی ہی وضاحت کرتا ہوں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے، حق واجب میں کمی کرنے اور حق واجب میں زیادتی کرنے دونوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔یعنی جب حاکم اور محکوم کو حکم دیا جاتا ہے تو دونوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا جاتا ہے۔نہ حاکم اپنے فرائض اور اختیارات میں کمی یا زیادتی کریں، نہ عوام اپنے فرائض میں کمی یا زیادتی کریں۔اور جو بھی یہ کرے گا اللہ تعالیٰ کی حدود کوتوڑنے والا ہوگا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والا پھر خدا تعالیٰ کی گرفت میں بھی آسکتا ہ۔۔۔حمد کئی احادیث ہیں جو حکمرانوں کے غلط رویے کے باوجود عوام الناس کو ، مومنین کو صبر کی تلقین کا حکم دیتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ تمہاری حق تلفی کر کے دوسروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔نیز ایسی باتیں دیکھو گے جن کو تم بُراسمجھو گے۔یہ سن کر صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! پھر ایسے وقت میں آپ کیا حکم دیتے ہیں۔فرمایا: اُس وقت کے حاکموں کو اُن کا حق ادا کرو اور تم اپنا حق اللہ سے مانگو۔پھر فرمایا : جو شخص اپنے امیر کی کسی بات کو نا پسند کرے تو اُس کو صبر کرنا چاہئے۔اس لئے کہ جو شخص اپنے امیر کی اطاعت سے بالشت برابر بھی باہر ہوا تو اس کی موت جاہلیت کی سی ( بخاری کتاب الفتن ) موت ہو گی۔( بخاری کتاب الفتن )