مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 571 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 571

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 543 سوم: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ کے اصل کو پکڑنے کی کوشش کریں۔اور اس میں واضح طور پر عوام کے لئے یہ نصیحت تھی کہ ایسے کام جو ملکی امن وسلامتی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں جن سے قتل وغارت اور خون ہو یا املاک کو نقصان پہنچے ایسے کام تقویٰ پر مبنی تو نہیں ہو سکتے۔اور ایسے کاموں سے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ کا مضمون تو کسی صورت ظاہر نہیں ہوتا۔نہ ہی ایسے کام وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْویٰ کا عکس پیش کرنے والے ہیں۔اسی طرح حاکموں کی طرف سے مسلسل ظلم کی فضا اور حقوق ادا کرنے کی بجائے حقوق غصب کرنے کی سیاست بھی ان مذکورہ امور کو پس پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔اس اصولی وضاحت کے ساتھ ساتھ حضور انور نے فرمایا: ایسے لوگوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تقویٰ پر چل کر حکومت چلانے والے ہوں گے، یا حکومت چلانے والے ہو سکتے ہیں۔یہ لوگ ملک میں فساد اور افراتفری پیدا کرنے کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں۔طاقت کے زور پر کچھ عرصہ حکومتیں تو قائم کر سکتے ہیں لیکن عوام الناس کے لئے سکون کا باعث نہیں بن سکتے۔پس ایسے حالات میں پھر ایک رد عمل ظاہر ہوتا ہے جو گو اچانک ظاہر ہوتا ہوا نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن اچانک نہیں ہوتا بلکہ اندر ہی اندر ایک لاوا پک رہا ہوتا ہے جو اب بعض ملکوں میں ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے اور بعض میں اپنے وقت پر ظاہر ہوگا۔جب یہ لاوا پھٹتا ہے تو پھر یہ بھی طاقتوروں اور جابروں کو بھسم کر دیتا ہے۔اور پھر کیونکہ ایسے رد عمل کے لئے کوئی معین لائحہ عمل نہیں ہوتا۔اور مظلوم کا ظالم کے خلاف ایک رد عمل ہوتا ہے۔اپنی گردن آزاد کروانے کے لئے اپنی تمام تر قوتیں صرف کی جا رہی ہوتی ہیں۔اور جب مظلوم کامیاب ہو جائے تو وہ بھی ظلم پر اُتر آتا ہے۔“ آخری دو فقروں میں ساری نصائح کا خلاصہ آ گیا ہے۔یعنی یہ درست ہے کہ حاکموں کے ظلم کا نتیجہ ایسے لاوے کی شکل میں نکلتا ہے جو انہیں بھسم کر دیتا ہے۔لیکن یہ رد عمل اتنا شدید جاتا ہے کہ مظلوم انتقام لینے کیلئے ظالم ہو جاتا ہے۔لہذا ایسا کرنا درست نہیں ہے اگر یہ سلسلہ چلتا رہے تو کبھی امن کی فضا قائم ہی نہ ہو۔اس لئے ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دینا تا محکوم بھی ظالم شمار نہ ہوں۔اس کے باوجود بعض عرب ممالک سے احمدیوں کو واضح پیغام کی سمجھ نہ آئی اور انہوں نے