مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 512
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم سہو ایا عمدا 484 لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دعوئی کے محرکات کیا تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” التبلیغ کا ایک حوالہ پڑھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ عیسائی فساد برپا کر رہے ہیں اور لوگوں کو دین اسلامی سے روک رہے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچاتے اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں اور ابن مریم کے مقام کو ناحق بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تو اس کی غیرت نے غضب میں آ کر کی جوش مارا اور اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں تجھے عیسی ابن مریم بناتا ہوں۔اس اقتباس کو پڑھتے وقت انہوں نے سہو ایا عمدا عیسائیوں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے اور آپ کی تحقیر کرنے والا حصہ بیان نہیں کیا اور محض اسی بات کو بنیاد بنایا کہ مرزا صاحب نے چاہا کہ عیسی علیہ السلام کا مقام کچھ کم ہو اس لئے جذباتی ہو کر خود مسیحیت کا دعوی کر دیا۔اگر پوری عبارت نقل کرتے تو ہر سننے، پڑھنے والے کے لئے حقیقت واضح ہو جاتی کہ آپ کو اس بات کا سب سے زیادہ درد تھا کہ کسی نبی کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا جوش تھا جس کی بنا پر اللہ تعالی نے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے عظیم مقام پر فائز فرمایا اور هَذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولُ اللہ کے سرٹیفیکیٹ سے نوازا۔، جماعت کو غیر مسلم کہنے کا اصل محرک جہاں اس پروگرام میں متعدد مرتبہ احمدیت کو غیر مسلم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی وہاں یہ عجیب بات بھی کی گئی کہ قرآن کریم کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کی تاویل کی۔یہ بات انہوں نے اس طرح کی کہ جیسے عام مسلمانوں کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہیں اور انہی کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ان کا پورا ایمان ہے۔