مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 511 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 511

483 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم علیہ السلام کے بارہ میں کہتے ہیں کہ: اپنے مطالعہ کی بنا پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس شخص کو اسلام کی بڑی غیرت تھی۔اس کے وقت میں انڈیا میں اسلام سے ارتداد کی ایک بڑی لہر آئی ہوئی تھی اور اس حالت میں یہ شخص عیسائیوں اور پادریوں سے مباحثے اور مناظرے کرتا تھا۔اور اس کو خصوصی طور پر اس معاملہ میں غیرت آتی تھی لہذا وہ اسلام اور عیسائیت کا موازنہ کرتا تھا۔اور عیسائی بھی محمد اور مسیح کے درمیان موازنہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ایسے شخص کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں جو فوت ہو چکا ہے جبکہ مسیح آسمانوں میں زندہ ہے۔ہم ایسے شخص کی پیروی کیونکر کریں جو شاید اب واپس نہ آئے جبکہ مسیح دوبارہ آئے گا۔چنانچہ اس شخص نے جب دیکھا کہ قرآن مسیح کو محمد سے بہتر گردانتا ہے تو یہ نفسیاتی اور روحانی طور پر ایک بحران کا شکار ہو گیا جس سے نکلنے کا اس نے یہ راستہ اختیار کیا کہ یہ خیال پیش کیا کہ مسیح کی آمد ثانی مسیح محمدی کے رنگ میں ہوئی تھی اور میں وہ مسیح محمدی ہوں۔پھر اس کے چند منٹ بعد اسی بات کو مزید وضاحت سے یوں پیش کیا: مرزا غلام احمد قادیانی کا خیال ہے کہ موجودہ عیسائیت کا رڈ ہی کسر صلیب کے مترادف۔کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس نے تمام عیسائی مناظروں کو شکست دی، اور اس کی جماعت عیسائیت کو شکست دے کر چھوڑے گی۔دراصل اس کی جماعت کی بنیاد ہی عیسائیت کے سدبا کا مطلب ہے کہ اس نے اپنی جماعت در اصل عیسائیت کے مقابلہ کے لئے ہی تشکیل دی۔جس شخص کو اسلام کی سب سے زیادہ غیرت تھی، جو اسلام سے ارتداد کی لہر کے وقت عیسائیوں سے مناظرے اور مباحثے کا مرد میدان ثابت ہوا، جس نے آپ کے بقول اپنی جماعت کی بنیاد ہی رڈ عیسائیت پر رکھی اور اسی کو کسر صلیب کے مترادف قرار دیا، وہی تو حقیقی مسلمان ہے، اس کو آپ غیر مسلم کیسے ثابت کر سکیں گے۔آخر وہ عیسائیت کی ہزیمت سے اسلام کے سوا اور کس کی فتح ثابت کرنا چاہتا ہے؟ آپ کی مہربانی کہ آپ نے اس کے کام گنوادیئے، کیونکہ اس کے بعد اس کے حقیقی اور بچے مسلمان ہونے کی اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔