مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 513
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 485 یہی نہیں بلکہ اس کے بعد انہوں نے بڑی وضاحت سے وہ بات کہہ دی جو ان پروگراموں کا کی اصل محرک سمجھی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا: اگر مرزا صاحب مجدد ہیں تو اس اسلام کی ہی تجدید کیوں نہیں کرتے جو مسلمانوں کا اسلام ہے اور جسے ہم بھی جانتے ہیں۔یہ نیا اسلام کیوں پیش کرتے ہیں۔تبصرہ عیسائی چاہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ بھی اسلام کے نام پر دیگر مسلمانوں جیسے عقائد پیش کرے تاکہ ان پر اعتراض کر کے وہ یہ کہہ سکیں کہ یہ دین عالمی نہیں ہوسکتا، اور چونکہ احمدیت نے صحیح اسلام پیش کر کے عیسائیت کے تمام مزاعم کا رڈ پیش کیا ہے اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ یہ آواز اسلام کی آواز شمار ہو۔کیونکہ دیگر مسلمان قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ کے قائل ہیں، وہ غیر مسلمانوں کے قتل اور پر تشدد کارروائیوں پر یقین رکھتے ہیں، وہ رضاع الکبیر جیسی خرافات پر یقین رکھتے ہیں۔ایسے امور کو ہوا دے کر عیسائیت اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرتی ہے کہ یہ دین کیسے درست دین ہو سکتا ہے۔لیکن جب ان کی بات احمدیت کے ساتھ ہوتی ہے تو نہ صرف ان تمام امور کا مدلل اور مسکت جواب ملتا ہے بلکہ عیسائی مذہب کے عقائد اور بائبل کی تعلیمات کے بارہ میں ان کو ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم ثابت کرنے کی عیسائی کوشش کا حقیقی محرک بے نقاب ہو جاتا ہے۔عرب احمدیوں کی پروگرام میں شرکت پہلا پروگرام نصف سے زیادہ گزر چکا تھا جب مکرم محمد شریف عودہ صاحب نے ٹیلی فون کے ذریعہ رابطہ کیا۔اور ادب و احترام کی زبان استعمال کرنے کی تلقین کے بعد یہ کہا کہ آپ کو چاہئے تھا کہ جماعت احمدیہ کے کسی فرد کو بلاتے اور اس سے سنتے کہ جماعت کے عقائد کیا ہیں اور مختلف امور کے بارہ میں کیا موقف ہے۔اس پر میزبان نے نہ صرف اس پروگرام میں ان کو موقعہ دیا بلکہ اگلے پروگرام میں دو افراد کو شامل کرنے کا وعدہ کیا۔گو اس پہلے پروگرام میں مکرم