مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 430 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 430

406 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم محمد شریف عودہ صاحب کی حضور انور کے ساتھ ملاقات میں خاکسار ایک دفعہ ترجمان کے طور پر حاضر ہوا، اس میں حضور انور نے فرمایا: ہر معاملہ میں آپ دلائل کی رو سے اپنا نقطہ نظر پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیں، کسی کو زبردستی منوانا یاprovoke کرنا تو ہمارا مقصد نہیں ہے۔خاکسار کے خیال میں سب سے زیادہ برکت حضور انور کے اس ارشاد پر عمل کرنے سے ہوئی۔کیونکہ دوستانہ ماحول میں نقطہ نظر خوب واضح کر دیا جا تا تھا اور جوش کے مقابلہ پر بعض اوقات جوش بھی نظر آتا تھا ، غلط اور خلاف واقعہ وخلاف اخلاق بات کا سختی سے نوٹس بھی لیا جاتا تھا۔مد مقابل کو اصل سوال کا جواب دینے کا ایک دوبار پابند بھی کیا جاتا تھا، لیکن آخری فیصلہ دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔اس اسلوب کو بہت سراہا گیا اور اس کی وجہ سے پروگرام کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔سادہ لوح عیسائیوں کے حیلے پروگرام کی ابتدا سے ہی مکرم شریف صاحب نے پادریوں کو دعوت عام دینا شروع کی۔شروع میں تو کوئی پادری سامنے نہ آیا، صرف عام عیسائیوں نے آکر دفاع کی کوشش کی لیکن و بہت کمزور ثابت ہوئے۔جس کے رد عمل کے طور پر بعض سادہ لوح عیسائیوں کی طرف سے بعض حیلے بھی سامنے آئے۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ بعض عیسائیوں نے اسلامی ناموں کے ساتھ پروگرام میں شرکت کی، لیکن اپنی باتوں سے پہچانے گئے۔مثلاً بعض نے آ کر کہا کہ پادری ذکر یا بطرس اپنی طرف سے تو کچھ نہیں لے کر آیا آخر ہماری کتب سے ہی بعض نصوص اس نے پیش کی ہیں ، پھر ہمیں اس کو یا اس کے عقائد کو برا بھلا کہنے کا کیا حق ہے؟ کسی نے یہ کہا کہ ہمیں عیسائیوں کے عقائد کو غلط ثابت کرنے کی بجائے اس پادری کی پیش کردہ اسلامی کتب کی نصوص کا دفاع کرنا چاہئے اور ثابت کرنا چاہئے کہ یہ نصوص درست ہیں اور پادری کے لگائے ہوئے بہتان غلط ہیں۔کسی نے آکر یہ کہا کہ میں مسلمان تھا اور عیسائیت کی فلاں خصوصیت اور اسلام کی فلاں خرابی کی وجہ سے عیسائیت قبول کر لی اور میں سمجھتا ہوں کہ عیسائیت حق ہے۔وغیرہ وغیرہ۔