مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 431
407 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اس بات پر چھوٹا سا تبصرہ ضروری ہے۔ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ لوگ حقیقتا مسلمان تھے یا عیسائی ، لیکن جس نہج کی طرف وہ ہمیں لے جانا چاہتے تھے وہ نج درست نہیں ہے۔افسوس کہ کئی مسلمانوں نے اسی نہج کو اپنایا اور اسلام کے دفاع کی بجائے اس کی حجت کو مزید کمزور شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کا باعث ٹھہرے۔جبکہ اس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق جماعت احمدیہ کا موقف بڑا واضح اور دو ٹوک ہے کہ تمام امور کو اصل الہامی کتاب کی طرف لوٹا دیں۔اگر یہ نصوص کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے متصادم ہیں تو یہ بجا طور پر مؤلف کی غلطی ہے جس کا اصل اسلامی تعلیمات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، لہذا ہمیں اس کے دفاع کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ہاں جو اصل قرآنی اور صحیح احادیث کی نصوص پر اعتراضات ہیں ان کی وضاحت اور ان کا جواب دینا ہمارا فرض ہے۔اس کے بالمقابل جب بھی دیگر مذاہب کے بارہ میں بات ہوتی ہے تو ہم ان کی الہامی کتب اور ان کی معتبر تحریرات پر ہی بنا کرتے ہیں اور ادھر ادھر جانے کی بجائے انہیں ان کے اصلی مصادر تک ہی محدود رہنے کا پابند کرتے ہیں۔اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا انکار صرف وہی کرے گا جس کی حجت کمزور اور خلاف واقعہ واخلاق و آداب تعلیم ہوگی اور ایسی تعلیم کے الہامی ہونے پر سوال اٹھیں گے۔پادریوں کی شرکت عام عیسائیوں کے کمزور دفاع اور ایم ٹی اے کے مسلسل چیلنج کی وجہ سے چرچ پر عیسائیوں نے دباؤ ڈالنا شروع کیا اور بڑے بڑے پادریوں کو دفاع کے لئے فون کرنے پر اکسایا جس کی وجہ سے بالآ خر مختلف پادری حضرات نے آکر اپنے عقائد کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔ان میں سے دو پادریوں کا ذکر خصوصی طور پر یہاں کرنا ضروری ہے۔یا دری عبد المسیح بسیط کے اعترافات یہ مصر کے مريم العذراء نامی چرچ کے باقاعدہ پادری، کئی کتب کے مصنف، اور آرتھوڈ کس