مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 429
405 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم وہاں بہت بڑے بڑے پادریوں ، عیسائی اور مسلمان علماء اور الازہر کے بعض شیوخ و اساتذہ نے بھی شمولیت اختیار کی۔ان میں سے مصر کے ایک بہت بڑے عیسائی پادری عبد ا سیح بسیط اور پادری مقیاس، بیت المقدس کے پادری پیٹر مدروس اور حنا رشماوی، اور شام کے پادری صحیح الصدی، لبنان کے پادری میخائیل اور پادری موسیٰ جبریل وغیرہ شامل ہیں۔نیز عیسائی سکالرز میں سے فرانس سے ریاض حنا، مصر کے السید جرجس و ہانی الکمال، پروفیسر جورج اور ڈاکٹر راجی ریاض وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اسی طرح مسلمانوں میں سے ڈاکٹر عبد السلام محمد استاد علوم بائبل جامعة الازہر مصر، الا زہر کے ہی ڈاکٹر خالد احسینی، عمر الشاعر اور الشیخ عزت عطیۃ، مکہ مکرمہ سے محمود الشرباصی صاحب، ابو ہی سے مجدی صاحب، مصر سے الشیخ ابو عبد المنیاوی، شاعر یا سر انور صاحب اور کو یت سے علاء سرور اور احمد الشیخ وڈاکٹر محمد جعارہ ، اور لندن سے رد عیسائیت میں کئی کتب کے مصنف مکرم شریف سالم صاحب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔علاوہ ازیں نہ صرف عرب دنیا سے بلکہ یورپ اور آسٹریلیا و افریقہ اور برازیل وغیرہ بلکہ دنیا کے ہر کونے سے فون کے ذریعہ اس پروگرام میں شامل ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔اور ای میلز کے ذریعہ اس پروگرام پر تبصرہ کرنے اور تجاویز ارسال کرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ان پروگرامز کے بارہ میں مختلف لوگوں کی آراء اور فون کالز اور تبصروں کے درج کرنے سے قبل عیسائیوں کے ساتھ ان پروگرامز کے بعض اہم واقعات کا درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔پروگرام کی مقبولیت رڈ عیسائیت پر شروع ہونے والے ان پروگرامز کے بارہ میں ایک بات جس کا سب نے اعتراف کیا یہ تھی کہ پروگرام سب کے لئے کھلا ہے اور ہر ایک کو مناسب وقت دیا جاتا ہے، ہر ایک کا احترام کیا جاتا ہے، اور بڑے دوستانہ ماحول میں بحث ہوتی ہے۔حتی کہ بعض پادریوں کے ساتھ ہنسی مذاق بھی چلتا تھا، اور اگر ریگولر کا لرز میں سے کوئی کسی روز شرکت نہ کر سکتا تو اگلے دن اس سے شکوہ بھی کیا جاتا کہ آپ کا انتظار کیا گیا تھا۔