مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 428 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 428

مصالح العرب۔جلد دوم ابتدائی پروگرامز پر حقیقت پسندانہ تبصرہ مکرم شریف عودہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ: 404 مکرم عادل ابو مرخیہ صاحب جو اردن کے سابقہ شیعہ عالم دین تھے بیان کرتے ہیں کہ جب پادری زکریا بطرس نے اسلام اور نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی اور حملہ شروع کیا تو ہم شیعہ مولویوں نے اس کے رڈ کا سوچا، بلکہ میں نے کہا کہ اس کیلئے ہمیں کتب اور بعض علماء کی مدد اور بہت بڑے بجٹ کی ضرورت ہو گی۔ہم ابھی اسی سوچ بچار میں تھے کہ جماعت احمدیہ نے اس کے رد میں پروگرام شروع کر دیئے۔میں ان پروگراموں میں بیٹھنے والوں کو دیکھ کر کہنے لگا کہ یہ تو کل کے بچے ہیں یہ اس پادری کا جواب کیسے دے سکتے ہیں جس کے ساتھ ایک بہت بڑی آرگنائزیشن کام کر رہی ہے۔عادل ابو مزحیہ صاحب اردن میں مکرم تمیم ابو دقہ صاحب کے ساتھ اکثر بحث مباحثہ کرتے رہے تھے۔لیکن الحوار المباشر کے ان پروگرامز کو دیکھنے کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ جس طرح کے یہ جواب دیتے ہیں یہ ان کی اپنی طرف سے نہیں ہو سکتے ضرور کوئی خدائی ہاتھ اور اس کی تائید ان کے شامل حال ہے۔اس بات کی نے انہیں جماعت کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ پروگرامز دیکھتے دیکھتے بالآخر یہ اس یقین پر پہنچ گئے کہ خدائی تائید اور حق یقینا ان لوگوں کے ساتھ ہے۔اور پھر 2008ء کے جلسہ سالانہ UK میں بطور مہمان تشریف لائے تو دل میں یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اگر مطمئن ہو کر بیعت کرنے کے مرحلہ تک پہنچ بھی گئے تب بھی چھ ماہ سے قبل بیعت نہیں کریں گے تا کہ مزید سوچ سمجھ لیں اور ہر طرح کی تحقیق کر لیں۔لیکن جلسہ کے دوسرے دن ہی اُن کی کایا پلٹ گئی اور انہوں نے بیعت کرلی اور عالمی بیعت میں نو مبایع کی حیثیت سے شرکت کی۔“ اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب تاثیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی ہے اور یہ سب حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خاص دعاؤں کا ثمر ہے۔پروگرام میں شامل ہونے والی شخصیات ان پروگرامز میں جہاں عرب دنیا کے پڑھے لکھے عیسائیوں اور مسلمانوں نے شرکت کی