مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 279
261 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ”التقوی“ کی وہی قدر کر سکتا ہے جسے تقوی کی آنکھ اور تقوی کا دل عطا ہوا ہو۔اس زمانہ میں جب کہ علم تو ہے مگر تقوی کا بحران ہے، آپ کا خط آپ کی سعید، منکسر مزاج، متقیانہ شخصیت کو ایک بلند روشن مینار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔زاد الله فی حبكم، وجزاكم الله احسن الجزاء حضور انور کا یہ پیغام جب مفتی صاحب کو پہنچایا گیا تو انہوں نے تحریر فرمایا: آپ کے جواب کا بہت شکریہ۔آپ کے لئے دل سے دعا کی ہے۔”کارثۃ الخلیج “ کتاب بھی مل گئی ہے جسے اول سے آخر تک پڑھا ہے۔یہ خطبات مجلّہ التقوی“ میں بھی (جواہل انصاف اور غیر متعصب لوگوں کے لئے نہایت مفید ہے) پڑھے تھے۔اللہ تعالیٰ مولا نا الا مام کو اپنی حفاظت میں رکھے۔آمین۔رسالہ ”التقوی کی پر شوکت زبان، نفاست، دیدہ زیبی اور مفید معلومات پر ہم آپ کو بہت مبارکباد پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی محبت پر اکٹھا رکھے۔آمین۔پھر حضور انور سے ان بزرگ کا پیارا تنا بڑھا کہ حضور سے عرض کی کہ میں اپنے کسی کام کے لئے مع اہلیہ، بیٹی اور بیٹا لندن آرہا ہوں اور حضور سے ملاقات کا خواہاں ہوں۔چنانچہ یہ تشریف لائے اور حضور سے مل کر بہت خوش ہوئے۔بہت سی تصاویر اتروا ئیں۔حضور انور بھی ان کے اخلاص سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں تحائف سے نوازا۔فالحمد للہ علی ذلک۔مجلہ " الشقوی انٹرنیٹ پر سن 2000ء سے لے کر آج تک کے مجلہ ” التقوی کے شمارہ جات ہماری عربی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔اور اس کے بھی بہت مبارک ثمرات ملنے لگے ہیں۔الحمدللہ۔ہالینڈ میں مقیم ہمارے ایک مصری احمدی دوست خالد صالح صاحب پیشہ صحافت سے منسلک ہیں۔آپ ایک بلند پایہ دینی علمی گھرانہ میں پیدا ہوئے۔بہت دیندار تھے مگر ملاؤں کی دین میں شدت پسندی کے خلاف تھے۔مسلمانوں کی بری حالت دیکھ کر اور اس کا کوئی حل نہ پا کر اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ عیسائیت کے جال میں جا پھنسے حتی کہ ایک عیسائی عورت سے شادی کر لی۔مگر ان لوگوں کو اندر تک دیکھ کر انہیں بھی چھوڑ دیا۔چونکہ سچے دل سے تلاش حق میں سرگرداں تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرگردانی پر رحم فرمایا اور احمدیت کے ذریعہ انہیں