مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 278
260 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم عیسائی مشنریوں کے گڑھ ہیں۔امریکہ کے جاسوسی کے اڈے ہیں۔اس کے باوجود اس شہر کے ماتھے پر یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی ہے : اُدْخُلُوا مِصْرَانُ شَاءَ اللهُ امِنِین اور کوئی مولوی یا شیخ اس پر اعتراض نہیں کرتا۔بے شک ہر احمدی دعا گو ہے کہ قاہرہ دوبارہ امن کا گہوارہ بن جائے کہ اس شہر نے صدیوں خدمت اسلام کی ہے۔نیز اس لئے کہ اسی میں اسلام کی عظمت ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ قادیان کی مسجد مبارک کے ماتھے پر مَنْ دَخَلَهُ كانَ امِناً “ پڑھ کر یہ مولوی کیوں سیخ پانچ ہو جاتے ہیں؟ کیا جوئے ، شراب اور بدکاری کے اڈوں سے اٹا پڑا یہ شہر ان لوگوں کے نزدیک خدا کے گھروں سے زیادہ پُر امن ہے۔پھر کیا یہ مولوی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مشہور قول بھول گئے جو آپ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا۔آپ نے فرمایا تھا: مَنْ دَخَلَ بَيْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ امِنْ کہ جوابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا وہ امن پا گیا۔حالانکہ ابوسفیان کا گھر اس وقت تک کفر و شرک ، بتوں کی عبادت اور خدا اور رسول کی دشمنی کا گڑھ تھا۔اگر ایسا گھر لوگوں کے لئے امن کا باعث بن سکتا تھا تو خدائے واحد کی عبادت کے لئے بنائے ہوئے خدا کے اس گھر یعنی مسجد مبارک قادیان کے بارے میں تبرک اور تفاؤل کے طور پر کیوں نہیں کہا جاسکتا کہ جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آگیا۔مفتی اعظم کی حضور انور سے ملاقات ایک عرب ملک کے مفتی اعظم ، جن کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں ، اپنے پہلے خط میں رسالہ التقوی اور احمدیت سے اپنے ابتدائی تعارف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: پانچ سال قبل میری ملاقات سپین میں ایک احمدی بھائی سے ہوئی تھی۔اس وقت سے آپ کا یہ رسالہ متواتر مجھے پہنچ رہا ہے۔خاکسار خود بھی اسے بڑی توجہ سے پڑھتا ہے اور دوست احباب بھی پڑھتے ہیں۔اس سے ہمیں بہت ہی فائدہ پہنچ رہا ہے۔براہ کرم یہ رسالہ ہمیں بھیجتے رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی اسلام کی راہ میں یہ خدمات جلیلہ قبول کرے۔آمین۔ان کا یہ خط جب حضور انور کی خدمت میں بغرض ملاحظہ پیش ہوا تو آپ نے اس پر اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا: