مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 223 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 223

مصالح العرب۔جلد دوم 205 رضا صاحب کی رائے سے ملتے جلتے الفاظ میں عیسی و موسیٰ علیہما السلام کی وفات کا ذکر کر کے آخر می رلکھا: " والخلاصة أن محمدًا بشر كسائر الأنبياء وهؤلاء قد ماتوا أو قتلوا“ (تفسير المراغى جلد 4 صفحه 88 شركة ومطبعة مصطفى البابي وأولاده مصر طبعة 1962م) یعنی خلاصہ کلام یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کی طرح ایک بشر ہیں اور یہ تمام انبیاء یا تو طبعی وفات پاگئے ہیں یا شہید ہو گئے ہیں۔ڈاکٹر محمدمحمود الحجازی کی تفسیر آپ کا شمار بھی علمائے ازہر میں ہوتا ہے آپ ایک دینی درسگاہ کے روح رواں بھی پ نے بھی تفسیر قرآن لکھی اس میں آیت کريم يُعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى کے بارہ میں لکھتے ہیں: "فهذه بشارة له بنجاته من مكرهم وتدبيرهم ورافعك في مكان أعلى والرفع رفع مكانة لا مكان كما قال الله في شأن إدريس عليه السلام ورفعناه مكانا عليا وكقوله في المؤمنين (في مقعد صدق عند مليك مقتدر فليس المعنى والله أعلم به أن عيسى رفع إلى الله وأنه سينزل آخر الدنيا ثم يموت “ 66 التفسير الواضح للدكتور الحجازی جلد 1 صفحہ 108 ) اس میں تو عیسی علیہ السلام کی یہود کی مکر سے نجات کی خوشخبری ہے۔اور یہ ذکر ہے کہ میں تیرا اعلیٰ اور بلند مقام پر رفع کروں گا۔اور یہاں مقام ومرتبہ کا رفع مراد ہے نہ کہ رفع مکانی مقصود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کے بارہ میں فرمایا: (وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ) یعنی ہم نے اس کا بلند مقام پر رفع کیا۔اور جیسے اللہ تعالی کا مومنوں کے بارہ میں فرمانا ہے کہ : (فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكَ مُقْتَدِرٍ) یعنی یہ مؤمنین اپنے قادر بادشاہ کے حضور سچائی کی مسند پر تشریف فرما ہوں گے۔چنانچہ اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ عیسی علیہ السلام کا