مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 222
204 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم خلاصہ کلام یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بشر رسول ہی تھے اور آپ سے پہلے رسول گزرے ہیں جو کہ سب وفات پاچکے ہیں جبکہ بعض کی موت قتل کے ذریعہ ہوئی جیسے زکریا اور یحییٰ علیہما السلام۔تاہم ان میں سے کسی کو بھی ہمیشہ کی زندگی نصیب نہ ہوئی۔اس لئے ضروری کی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی خدا تعالیٰ کی سنت کے مطابق وفات ہوتی۔چنانچہ آپ بھی اپنے سے پہلے انبیاء کی طریق پر اس جہان سے گزر گئے کیونکہ بقا صرف خدا تعالیٰ کو ہی ہے اور ایک موحد مؤمن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی بقاء کا بھی قائل ہو۔أَفَإِن مَّاتَ کا مطلب ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پا جائیں جس طرح موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام وفات پاگئے۔اَوْ قُتِلَ یا زکریا اور بیٹی علیہما السلام کی طرح قتل ہو جائیں تو تم اپنی ایڑھیوں کے بل پھر جاؤ گے اور آپ کے لائے ہوئے دین سے پھر جاؤ گے؟ اللہ تعالیٰ انہیں اس قول کے ذریعہ یہ ہدایت دینا چاہتا ہے کہ اصل مقصود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات نہیں ہے تا ان کے ہمیشہ زندہ رہے کا سوال پیدا ہو۔بلکہ اصل مقصود وہ تعلیم اور ہدایت ہے جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے لہذا آپ کے بعد آپ کی اس تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔شیخ احمد مصطفیٰ المراغی کی رائے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ شیخ محمد عبدۂ صاحب بہت بڑے عالم اور علماء کی ایک جماعت کے استاد تھے اس لئے آپ کے بعض شاگردوں نے بیشتر مسائل میں نہ صرف آپ کی رائے سے اتفاق کیا بلکہ اپنی تفاسیر اور کتب میں ایسے مسائل پر لکھتے ہوئے اپنی رائے کو شیخ محمد عبدہ صاحب کے الفاظ میں ہی درج کیا۔ان میں سے ایک احمد مصطفیٰ المراغی ہیں جو مصر کے کلیتہ دار العلوم میں شریعت اسلامیہ اور عربی زبان کے استاد رہے اسی طرح شیخ الازہر بھی رہے، ا اور 1945ء میں ہی انہوں نے تمہیں جلدوں پر مشتمل ایک تغییر تفسیر المراغی شائع کی ، اس میں وفات مسیح کے بارہ میں انہوں نے بعینہ شیخ محمد عبدہ صاحب کے الفاظ درج کر کے اپنی رائے کا اظہار کیا۔تکرار کے خوف سے اسی رائے کو دوبارہ یہاں درج نہیں کیا جا رہا۔علاوہ ازیں انہوں نے آیت کریمہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَا مِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقَابِكُمْ ( آل عمران 145 کی تفسیر میں شیخ رشید