مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 207
189 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم احمدیہ کے ذریعہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کر لی ہے۔اس پر میں نے اپنے ایک مولوی سے جماعت احمدیہ کے بارہ میں پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ کافر ہیں۔میں نے ان کی تکفیر کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہمیں تو اس کا کوئی زیادہ علم نہیں ہے لیکن چونکہ ان کو علمائے پاکستان اور ایسے علماء نے جو ہم سے زیادہ جانتے ہیں کا فرقرار دیا ہے اس لئے ہم ان کی رائے کو درست مانتے ہیں۔اس بات نے میری جستجو میں اضافہ کر دیا اور مجھے جماعت کے عقائد کے بارہ میں جاننے کی ایک کو سی لگ گئی۔خصوصا اس لئے بھی کہ میں اپنے بیٹے میں قبول احمدیت کے بعد ایک بہت اچھی تبدیلی دیکھ چکا تھا۔چنانچہ میں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر جماعت کے ٹی وی پروگرام دیکھنے شروع کئے ، اور کتابوں کا مطالعہ کیا۔ہم تمام لوگ مطالعہ کرتے تھے۔پھر آپس میں بیٹھ کر بحث کرتے اور جماعتی افکار و عقائد اور تفاسیر کا دوسرے چینلز پر پیش کئے جانے والے خیالات کے ساتھ موازنہ کرتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کے دلوں کو نور یقین سے بھر دیا۔اور ہمارے لئے جماعت کی سچائی ثابت ہوگئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے عین مطابق ہم نے امام مہدی کی بیعت کر لی۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو تبدیلی مجھ میں اور میرے اہل خانہ میں پچھلے دو ماہ میں ہوئی ہے اس کے بیان کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔میں عمر رسیدہ ہوں اور بفضلہ تعالیٰ حج کی سعادت بھی پاچکا ہوں اور چار مرتبہ عمرہ بھی کیا ہے لیکن گزشتہ دو ماہ سے نصیب ہونے والی حلاوت ایمانی جیسا مزہ پہلے کبھی نہ چکھا تھا۔“ ایک وہ حسن عودہ نامی تھا جس نے امام مہدی علیہ السلام کی جماعت سے ارتداد اختیار کیا اور ایک یہ حسن عابدین ہیں جن کا یہ ایمان افروز بیان ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد دلاتا ہے جس میں آپ نے فرمایا: ثلاثُ مَن كُنَّ فيه وجد حلاوة الايمان: أن يكون الله و رسوله أحب إليه مما سواهما وأن يحب المرء لا يحبه إلا الله، وأن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يقذف في النار - “ 66 ( بخاری کتاب الایمان باب حلاوۃ الایمان) یعنی تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس پالیتا ہے۔یہ کہ اللہ اور اس کا رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اس کو پیارے ہوں۔اور یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کی