مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 206 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 206

188 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم کہ نہ پرانا مسیح آ سکتا ہے نہ ہی کسی نے اس امت سے آنا ہے۔گویا نزول مسیح کی بے شمار } احادیث کا جو تواتر کے درجہ تک پہنچنے کے قریب ہیں انکار کر دیا اور انہی علماء کے بقول جن کے ہاتھوں وہ مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں ان احادیث کا انکار کر کے نہ صرف کفر بلکہ اور پتہ نہیں کس کس فتوے کی زد میں آگئے۔اب قارئین کرام خود ہی اندازہ لگائیں کہ ان علماء کی نظر میں عودہ صاحب نے کیسا اسلام قبول کیا۔احمدیت تو چھوڑی لیکن اسکے عقائد کو چھوڑنے سے قاصر رہے۔مولویوں کا اسلام تو قبول کیا لیکن ان کے عقائد نہ اپنا سکے۔اور انجامکار خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے حسن عودہ صاحب کو تو ”مولویوں کا اسلام قبول کرنے سے کچھ نہ مل سکا۔لیکن اس کے بالمقابل آئیے دیکھتے ہیں کہ احمدیت قبول کرنے والوں کو کیا ملا؟ سینکٹر و ہزاروں مثالوں میں سے ایک یہاں پیش خدمت ہے۔مکرم حسن عابدین صاحب آف شام نے ماہ جولائی 2009 میں ہونے والے ایم ٹی اے کے پروگرام ” الحوار المباشر میں بذریعہ فون کال ساری دنیا کے سامنے جو کہا اس کا خلاصہ نظرِ قارئین کیا جاتا ہے۔”میرا ایک چالیس سالہ بیٹا ہے جو عام طور پر بڑا تیز مزاج ہے۔گھر میں اہل خاندان کے ساتھ اور کام پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بد مزاجی اور بدخلقی سے پیش آتا تھا، کبھی نماز پڑھتا تو کبھی چھوڑ دیتا تھا۔چار ماہ پہلے میں نے اس میں ایک نہایت عجیب تبدیلی محسوس کی کہ وہ خوش خلقی ، وسعت حوصلگی اور بچوں کے ساتھ پیار محبت اور کھیلنے جیسے خصائل کا حامل ہو گیا ہے۔اور نہ صرف خود نمازوں کا پابند ہو گیا بلکہ اہل خاندان کو تہجد کی نماز ادا کرنے کی طرف توجہ دلانے لگ گیا۔میں اس کے کام کے ساتھیوں سے ملا تو انہوں نے بھی مجھے یہی بتایا کہ اس کا ہمارے کی ساتھ رویہ یکسر بدل گیا ہے۔کئی دفعہ مجھے خود اس کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقعہ ملا تو میں نے دیکھا کہ وہ نہایت گریہ وزاری کرتا اور روتا ہے، اور جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتا ہے تو آبدیدہ ہو جاتا ہے۔میں نے اس تبدیلی کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں نے جماعت