مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 205
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 187 بھی اعلیٰ درجہ کی نیکی دکھائی دیتی ہے۔اب عودہ صاحب نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے نہ صرف ان کی ایسی تمام نیکیوں پر پانی پھیر دیا ہے بلکہ ان کے منہ پر دوسرے لفظوں میں یہ کہا ہے کہ تم سالہا سال سے جھوٹ بول رہے ہو۔ایسی صورت میں منصف مزاج خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان جھوٹ بولنے والوں کے باقی اعتراضات کی کیا حقیقت ہوگی۔دوسری طرف با وجود یہ جاننے کے کہ یہ لوگ سالہا سال سے جھوٹ بول رہے ہیں پھر بھی عودہ صاحب کا ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا ان کی اپنی حق پسندی اور صداقت شعاری کو بھی خوب واضح کر رہا ہے۔اب دیکھیں کہ یہ مخالفت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں مزرعہ احمدیت کیلئے کس طرح کھا د ثابت ہوئی کہ: -1۔اس ارتداد اور اس مخالفت سے معاندین احمدیت کو خود اس مرتد کی زبانی ایک اعتراض کا ہمیشہ کے لئے شافی جواب مل گیا۔2 مخالفین کی ایک بڑی تعداد انہی کے بقول جھوٹی قرار پائی۔نزول عیسی کے بارہ میں اعتقاد اُمّت اسلامیہ کے اکثر فرقوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔اور ان کے ظاہری نزول پر ایمان لانے کی وجہ سے انہیں یہ عقیدہ بھی اختیار کرنا پڑا کہ وہ لازمی آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر فرمایا کہ وہ عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور جس کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی امت محمدیہ میں سے ایک شخص ہوگا اور خدا تعالی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ میں ہوں۔حسن عودہ صاحب کو یہ جرات تو نہ ہو سکی کہ وفات مسیح کا انکار کر سکیں۔نہ ہی وہ مولویوں کا نزول مسیح ابن مریم کا عقیدہ اپنا سکے لہذا انہوں نے ایک درمیانی راہ نکالی کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور آنے والے کے بارہ میں اختلاف ہے۔چنانچہ ان کے بارہ میں خود ہی یہ فیصلہ کیا