مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 200
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ”ہمارے لئے تمہارا ارتداد بھی خوشی کا باعث ہے“ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو خدا تعالیٰ ہمیں اس ارتداد میں بھی خوشخبریاں سنا رہا ہے فرماتا ہے: (المائده:55) 182 يَا يُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِيْنَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لائِم ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہو جائے تو ضرور اللہ (اس کے بدلے ) ایک ایسی قوم لے آئے گا جس سے وہ محبت کرتا ہو اور وہ اُس سے محبت کرتے ہوں۔مومنوں پر وہ بہت مہربان ہوں گے (اور) کافروں پر بہت سخت۔وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہ رکھتے ہوں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ اس کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت وسعت عطا کرنے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ارتداد کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جو بعض لوگ مرتد ہو جاتے تھے تو کیا ان سے اسلام کو نقصان پہنچتا تھا؟ ہر گز نہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ یہ پہلو انجام کار اسلام کو ہی مفید پڑتا ہے۔اور اس طرح سے اہل اسلام کے ساتھ اختلاط کی ایک راہ کھلتی ہے اور جب خدا تعالیٰ نے ایک جماعت کی جماعت اسلام میں داخل کرنی ہوتی ہے تو ایسا ہوا کرتا ہے کہ اہل اسلام میں (سے) کچھ ادھر چلے جاویں۔خدا کے کام بڑے دقیق اور اسرار سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آیا کرتے۔“ (البدر جلد 2 نمبر 27 مؤرخہ 24 جولائی 1903 صفحہ 209) پھر ایک اور جگہ فرمایا: ایک ٹہنی کے خشک ہو جانے سے سارا باغ بر باد نہیں ہوسکتا۔جس ٹہنی کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے خشک کر دیتا ہے اور کاٹ دیتا ہے اور اس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا