مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 199 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 199

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 181 ہیں؟ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے فَاقِدُ الشَّيْء لَا يُعْطِيهِ یعنی جس کا اپنا دامن خالی ہے وہ بے چارہ کسی کو کیا دے گا۔عام مسلمانوں کے غلط اعتقادات آپ اپنا نہیں سکتے۔احمدیت سے اخذ کردہ صحیح اسلامی مفاہیم سے بظاہر لاتعلقی کا اظہار کرنے سے آپ دینی لحاظ سے دیوالیہ ہو کر رہ گئے ہیں۔پھر آپ کے پاس ہے کیا جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں؟!! آپ ہی بتائیں کہ آپ نے احمدیت کو چھوڑ کر کونسا اسلام قبول کیا ہے؟ کیا آپ نے اس فرقہ کا اسلام قبول کیا ہے جو قبروں کو سجدہ کرنا جائز سمجھتے ہیں؟ باد کیا اس فرقہ کا اسلام قبول کیا ہے جو فاتحہ خوانی ، چہلم، تصور شیخ، گیارھویں، عرس، اور میلادالنبی میں آنحضورا کو حاضر ناظر جان کر درود پڑھتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں؟ حمید کیا اس فرقہ کا اسلام قبول کیا ہے جس کے بنیادی عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ اصلاح معاشرہ کے لئے اقتدار پر قبضہ کر لو چاہے اس کارروائی میں جس قدر بھی فساد برپا ہو؟ حملہ کیا اس فرقہ کا اسلام قبول کیا ہے جو نہ صرف کبار صحابہ کا دشمن بلکہ ان سے بیزاری کے اظہار کو ایمانیات کا حصہ سمجھتا ہے؟ یا ان مولویوں کا اسلام قبول کیا ہے جو آئے دن نو جوانوں کو ورغلا کر خود کش دھما کے کرواتے ہیں اور معصوموں کی جانوں سے کھیلتے ہیں؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک آپ کی غلطیوں سے صرف نظر ہوتا رہا آپ اپنا اخلاص دکھاتے رہے جب ان پر گرفت کی گئی تو آپ منہ پھیر کر چل دیئے۔آپ پر تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول صادق آتا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِين (الحج: 12) ترجمہ: اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو اللہ کی محض سرسری عبادت کرتا ہے۔پس اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی ابتلا آئے تو وہ منہ پھیر لیتا ہے۔وہ دنیا بھی گنوا بیٹھا اور آخرت بھی۔یہ تو بہت کھلا کھلا نقصان ہے۔