مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 201 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 201

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔۔جلد دوم 183 کر دیتا ہے۔۔۔اگر اس جماعت سے ایک نکل جائے گا تو خدائے تعالیٰ اس کی جگہ میں لائے گا۔“ آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 346-347) حضرت خلیفة المسح الأول رضی اللہ عنہ نے ایک مرتد کے بارہ میں فرمایا: ، ”ہمارے لئے تمہارا ارتداد بھی خوشی کا باعث ہے کیونکہ قرآن کریم میں ایسے ارتداد اور مرتدوں کے بدلہ ہم کو وعدہ دیا گیا ہے مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَہ۔یعنی اگر تم میں سے کوئی ایک مرتد ہو جاوے تو اس کے بدلہ اللہ تعالیٰ ایک بڑی قوم لائے گا جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والی اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرنے والا ہوگا۔اس تارک اور اس کے مرتد بھائیوں کے بدلہ ہمیں قوموں کی قومیں مسلمان اور نیک مسلمان جو محبوب الہی ہوں گے عطا کرے گا اور ضرور عطا کرے گا۔فالحمد للہ رب العالمین۔“ (نورالدین صفحہ 240 تا 252) ہم ذکر کر آئے ہیں کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہجرت کے بعد عرب جماعتوں کے لئے خلیفہ وقت سے ملنے کی راہ کھل گئی اور عربوں میں تبلیغ کے لئے اور ان تک احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لئے حضور انور نے متعدد پروگرام شروع فرمائے۔یہ کوششیں جاری تھیں کہ حسن عودہ صاحب کے ارتداد کا واقعہ سامنے آیا۔آج جب ہم بعد کے واقعات پر غور کرتے ہیں تو نہایت واضح طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ایک شخص کے ارتداد میں اپنے قرآنی وعدے کے مطابق عربوں کی ایک بڑی جماعت عطا کرنے کی بشارت دے رہا تھا۔اور گویا یہ فرمارہا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ خوش ہو جاؤ کہ میرے وعدے کے پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔اب عرب کی ایک بڑی بھاری جماعت احمدیت قبول کرنے والی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جماعت کو ایم ٹی اے کی نعمت عطا ہوئی جس پر لقاء مع العرب پروگرام شروع ہوا تو یہ موعودہ شمار ایک ایک کر کے احمدیت کی گود میں گرنے لگے اور آج خلافت خامسہ میں عرب دنیا میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ حلقہ بگوش احمدیت ہو رہے ہیں اور ایک عرب کے مرتد ہونے پر عربوں سے ایک قوم احمدیت میں داخل ہوا گئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام اور آپ کے خلفاء اور نظام جماعت سے محبت واطاعت اور اخلاص و وفا میں ہر روز نئی شان سے آگے ہی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔