مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 189 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 189

171 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کہ اس شخص کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں۔باوجود علم کئے ” عودہ نے یہ ایک جھوٹا تصور پیش کیا کہ ایک نہایت ہی مخلص احمدی جو خدمت کے لئے آمادہ اور تیار اور خواہشمند ہے اس کو یہاں بلوا لینا چاہئے۔بہر حال اسی وقت ان کو فارغ کر کے واپس بھجوا دیا گیا۔یہ واقعہ جون 1986ء کا ہے یعنی آنے کے چند ماہ بعد چھ مہینے کے اندر اندر۔اور جب میں نے عودہ صاحب کو بلا کر یہ سرزنش کی کہ آپ نے اتنا واضح جھوٹ بولا، ایسا دھو کے سے کام لیا، آپ کیسی سلسلہ کی خدمت کریں گے؟ تو اس پر پہلے تو صاف انکار کر دیا کہ میرے تو علم میں ہی نہیں تھا۔یہ مجھ پر جھوٹا الزام ہے کہ مجھے علم تھا کہ یہ شخص مرتد ہو چکا ہے۔جب جماعت کبابیر کے پیش کردہ حقائق سامنے پیش کئے گئے تو 11 / دسمبر 1986ء اور پھر 12 دسمبر 1986 کو تحریری طور پر اپنی غلطی کا اقرار کیا اور یہ بھی لکھا کہ میرے والد صاحب کو بھی اس کے ارتداد کا علم تھا اس لئے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔اور معاف کر دیا جائے فوری طور پر ان کی فراغت کا فیصلہ کر کے ان کو واپس بھجوانے کا حکم دیا گیا۔اس پر انہوں نے نہایت عاجزانہ معافی مانگی اور ایک نہایت مخلص عرب دوست کو اپنا سفارشی بنایا اور انہوں نے ایک بہت ہی پر زور سفارش کا خط لکھا اور کہا کہ یہ عدم تربیت یافتہ ہے غلطی ہوگئی معاف کر دیں، آئندہ سے کبھی اس قسم کی بیہودہ حرکت نہیں کرے گا۔چنانچہ میں نے ان کے اصرار پر اور کچھ اس لئے کہ ان کے والدین کی میرے دل میں بہت عزت تھی اور ہے ، وہ دیر سے سلسلہ سے بڑے اخلاص سے وابستہ ہیں ، میں نے اس لئے اس کو معاف کر دیا اور دوبارہ جماعت کی خدمت پر مامور کر دیا۔“ جماعت احمد یہ شام کی شکایت ان کے سپر د کام یہ تھا کہ عربوں سے خط وکتابت کریں اور بعض مضامین کے تراجم کریں۔عربوں کی ہماری تین بڑی جماعتیں ہیں، ایک شام میں ایک فلسطین میں اور ایک مصر میں۔اس کے علاوہ خدا کے فضل سے دوسرے ممالک میں بھی عرب موجود ہیں۔لیکن کثرت سے نہیں۔یہاں بھی بہت زیادہ بڑی تعداد میں جماعتیں تو نہیں لیکن فلسطین میں مثلاً بہت بڑی ایک جماعت ہے۔سارے کا سارا گاؤں خدا کے فضل سے احمدی ہے۔تو یہ تین بڑی جماعتیں ہیں جن سے خصوصیت کے ساتھ خط وکتابت کا کام ان کے سپر دتھا۔لیکن سب سے پہلے شام