مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 188
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 170 عادت ہے۔لیکن چونکہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو مخلص ہے اور یہ عربی دان بھی کی ہیں اور اُردو کا بھی کچھ ملکہ رکھتے ہیں۔اس لئے یہ سلسلہ کے لٹریچر کی اشاعت میں اور عربی خطی وکتابت میں کام آسکتے ہیں۔اور انہوں نے یہ حسن ظنی ظاہر کی کہ گویا یہاں آکر یہ سنبھل جائیں گے اور اپنی بد عادات سے باز آجائیں گے۔“ پہلا دھوکہ اور فراغت کا حکم ” جنوری 1986ء میں ان کو عربک ڈیسک کا انچارج مقرر کیا گیا جو باقاعدہ تبشیر کے تابع مختلف ڈیسکوں میں سے ایک ڈیسک ہے۔چند ماہ کے اندر ہی ان کے مزاج کی کجی کئی رنگ میں ظاہر ہونا شروع ہوئی۔سب سے پہلے انہوں نے ایک شخص کے متعلق سفارش کی کہ یہ غزہ کے ایک مخلص احمدی ہیں اور بہت ہی قابل اور رسالوں کے مدیر رہے ہیں۔زبان پر بڑا عبور ہے۔صاحب علم و فضل انسان ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ یہ اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں پیش کریں اور میں پر زور سفارش کرتا ہوں کہ ان کو یہاں بلوالیا جائے اور اگر کوئی عربی رسالہ شائع کرنا مقصود ہو تو یہ اس کے لئے بہترین مدیر ثابت ہوں گے۔چونکہ مجھ پہ یہ تاثر دیا گیا کہ یہ کہا بیر فلسطین سے خبریں منگوا رہے ہیں اور جو بھی باتیں کر رہے ہیں وہ وہاں کی جماعت کے علم میں بھی ہیں، میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا۔کیونکہ اس سے پہلے ان کے جھوٹ کا اور کبھی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔جب وہ یہاں تشریف لے آئے ، غزہ کے یہ دوست تو تھوڑی دیر کے بعد ہی فلسطین کی جماعت کی طرف سے ایک بہت زور کا احتجاج موصول ہوا۔اور انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ایسے شخص کو جماعت احمدیہ کی خدمت سپرد کی ہے یا کوئی خدمت سپرد کی گئی، جس کا جماعت احمدیہ سے تعلق ہی کوئی نہیں۔یہ وہ صاحب ہیں، ان کے بیان کے مطابق، جنہوں نے حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب کے زمانہ میں احمدی ہونے کا فیصلہ کیا اور اس کے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا۔لیکن احمدی ہوتے ہی انہوں نے جماعت کبابیر سے مالی مطالبات شروع کر دیئے۔جب وہ مطالبات رڈ کر دیئے گئے تو انہوں نے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کیا اور عدالت میں حاضر ہو کر یہ بیان دیا کہ میرا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور خود حسن عودہ کے والد صاحب بھی وہاں گئے اور تحقیق کے بعد ساری جماعت کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی