مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 187
مصالح العرب۔جلد دوم 169 ایک عرب کا جماعت سے ارتداد 80ء کی دہائی کے نصف آخر میں ایک عرب حسن عودہ کے ارتداد پر مولویوں نے بڑا شور مچایا۔جماعت احمدیہ کے لئے یہ واقعہ اس لحاظ سے قابل افسوس ضرور تھا کہ ایک شخص نے راہ نجات کو پہچان کر چھوڑ دیا اور ایسی راہ اختیار کی جس کا نتیجہ لازما بُرا ہے۔لیکن اس شعور کا کہیں دُور دُور تک بھی نام ونشان نہ تھا کہ اس کے جانے سے جماعت کو کوئی نقصان ہوا ہے۔کیونکہ جو بات اس کی وجہ ارتداد بنی وہ یہی تھی کہ اس کے سپرد کئے گئے کام واپس لے لئے گئے اور اسے اپنے ملک واپس جانے کا کہا گیا تھا۔لہذا جب جماعت کو اس پر اعتماد نہ رہا، اس کے کام پر اعتماد نہ رہا حتی کہ اس کے یہاں رہنے میں جماعت کو کسی قسم کی خیر کی توقع نہ رہی تو پھر اس کے مولویوں کے ساتھ جاملنے اور اعلانِ ارتداد سے جماعت کا کیا نقصان ہو سکتا تھا۔اس کے ارتداد پر جب مولویوں نے بغلیں بجانی شروع کیں تو حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے 18 دسمبر 1989ء کو خطبہ جمعہ میں اس کے بارہ میں تفصیلی حقائق جماعت کے سامنے رکھے۔اس خطبہ کے بعض حصے قارئین کرام کے لئے پیش کئے جاتے ہے۔ذیلی عناوین اصل خطبہ کا حصہ نہیں ہیں۔لندن آمد کا پس منظر " کبابیر سے 1985ء میں اس وقت کے مبلغ شریف احمد صاحب امینی نے سب سے پہلے ان کا نام اس سفارش کے ساتھ بھجوایا کہ ان سے انگلستان بلوا کے سلسلہ کا کوئی کام لیا جائے اور وجہ یہ بیان کی کہ یہاں یہ ہمارے قابو کے نہیں۔بداخلاقی کرتے ہیں اور اعتراض کی بہت