مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 159
143 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم بول سکتا ہے جن سے طبیعت میں ایک رقت پیدا ہوتی ہے۔اور مزا آتا ہے۔پھر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ اگر تمہیں ایسا کرنے سے نماز میں مزہ نہیں آتا تو ایک دو دفعہ ایسا کر کے رُک نہ جاؤ بلکہ اس شرابی کی طرح جس کو جب تک نشہ نہیں آجاتا وہ خم کے خم پیتا جاتا ہے، تم بھی نماز میں اپنی کوشش کرتے جاؤ اور جب تک مزا نہ آنا شروع ہو جائے تھکو نہیں۔اور خدا سے دعا کرو کہ میں اندھا ہوں ایسا نہ ہو کہ اندھا ہی رہ جاؤں، تو مجھے اپنی طرف آنے کے راستے بتا۔چنانچہ میں نے اسے کہا کہ اب تم اپنی مسجد میں یا اپنے کمرے میں کسی ایسے وقت میں نماز پڑھنا جب وہاں کوئی اور نہ ہو۔اور کوشش کرنا کہ خدا کے سامنے اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے رو کر دعا کرو۔چنانچہ وہ دوسرے یا تیسرے دن صرف یہ بتانے آیا کہ وہ زندگی میں نماز میں پہلی دفعہ رویا ہے اور اسے ایک نا قابل بیان مزا آیا ہے۔میں نے اسے کہا کہ یہ چیز ہمیں مسیح موعود علیہ السلام نے آکر دی ہے۔یہ نو جوان بہت متاثر تھا۔اور ایک پکے ہوئے پھل کی طرح تھا جو کسی وقت بھی صرف ہاتھ لگانے سے احمدیت کی جھولی میں آسکتا تھا۔لیکن ایک تو احتیاط کے نقطہ نظر سے دوسرے اچانک مجھے اپنے ویزے کے سلسلہ میں جلدی کارروائی کرنی پڑی اور اس افرا تفری میں میں اس سے تسلی کے ساتھ اس بارہ میں بات نہ کر سکا۔تاہم میں نے قاہرہ میں اور اس کے اپنے ملک میں اس کا ایڈریس لے لیا۔پھر یہاں لندن سے بارہا اس سے رابطہ کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔اور اس بات کا مجھے آج تک بہت زیادہ افسوس ہے۔قصہ ایک خواب کا حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی خلافت کا غالباً پہلا سال تھا جب مجھے مسجد مبارک میں اعتکاف بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اعتکاف کے بارہ میں حکم یہ ہے کہ 20 رمضان المبارک کی صبح سورج نکلنے سے قبل اعتکاف بیٹھ جانا چاہئے لیکن ہم جامعہ کے ہوٹل سے جاتے جاتے لیٹ ہو گئے اور سورج نکل آیا تھا۔اس لئے میرے ذہن میں اسی وقت سے خلش پیدا ہوگئی کہ نہ ای جانے یہ اعتکاف قبول بھی ہوا ہے یا نہیں۔بہر حال نوافل ادا کئے اور دعا کی تو رات کو خواب میں دیکھا کہ شدید گرمی کے دن ہیں اور حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے ظہر کی نماز پڑھائی ہے۔اس کے بعد حضور مسجد مبارک میں مشرقی جانب جہاں وضو کی جگہ ہے چل پڑتے ہیں۔میں بھی