مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 158 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 158

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 142 تھے۔وہ چونکہ معمولی سے وظیفہ پر گزارا کرتا تھا۔اتنی معمولی رقم میں کھانا پینا اور رہنا بہت مشکل ہو جاتا تھا اس لئے کبھی کبھار میں اس کی مدد کر دیتا تھا۔میں نے آہستہ آہستہ اسے جماعت کے بارہ میں بتانا شروع کیا۔قتل مرتد والی کتاب کے ترجمہ کی وجہ سے مجھے اس کی تمام دلیلیں یاد تھیں لہذا میں نے اسے بتایا کہ دیکھو دیگر مسلمانوں کو یہ بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔اسی طرح میں نے آہستہ آہستہ اسے بتا دیا کہ میرا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اور میں جماعت کا مبلغ ہوں اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آیا ہوں۔میری ہر بات پر اس کا مثبت رد عمل ہوتا تھا۔ایک دن میں نے اسے کہا کہ آپ نے کبھی پوچھا نہیں کہ احمدیت نے تمہیں کیا دیا؟ اس نے کہا کہ میرے ذہن میں سوال تو پیدا ہوا تھا لیکن میرا آپ کے ساتھ تعلق ایسا تھا کہ میں نے آپ کو اپنا استاد مانا ہے اس لئے ہمیشہ ایسے سوال سے مجتنب ہی رہا ہوں جس میں کوئی جسارت کا رنگ ہو۔میں نے کہا کہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے ہمیں کیا دیا؟ آپ نے ایک تو ہمیں قرآن دیا دوسرے نماز دی۔وہ بڑا حیران ہوا کہ قرآن اور نماز تو پہلے ہی موجود ہیں پھر مسیح موعود علیہ السلام نے کیسے دیئے۔میں نے وضاحت کی کہ آپ علیہ السلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہر بات کو قرآن پر پرکھو، اگر تو وہ قرآن کے مطابق ہے تو اسے لے لو اور اگر اس کے خلاف ہو تو رڈ کر دو۔چنانچہ وہ حدیث جو قرآن کے ساتھ متفق ہے وہی کچی حدیث ہے اور جو قرآن کے ساتھ ٹکراتی ہے یا تو اسکی ایسی تاویل کرو جو قرآن کے ساتھ متفق ہو جائے بصورت دیگر وہ درست بات نہیں ہوگی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہے کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے خلاف کوئی بات کر سکیں۔یہ ایک نہایت محفوظ راہ ہے۔اور جہاں تک نماز کا تعلق ہے تو آپ مجھے بتائیں کہ کیا آپ نماز میں کبھی روئے ہیں؟ اس نے کہا : کبھی نہیں۔میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں فرمایا ہے کہ کبھی دروازے بند کر کے بے شک تکلف سے ہی نماز میں اپنے خدا کے آگے گڑ گڑا کے اپنی بخشش چا ہو۔آہستہ آہستہ طبیعت میں رقت اور گداز پیدا ہو جائے گا اور نماز میں مزا آنے لگے گا۔پھر خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو کر مسنون دعاؤں کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو۔کیونکہ انسان اپنی زبان میں اپنا مافی الضمیر آسانی سے ادا کر سکتا ہے اور ایسے الفاظ اور جملے