مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 153 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 153

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 137 حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کا تحریر و تقریر پر مشتمل اس قدر مواد انگریزی میں میسر ہے اس کا ترجمہ کیوں نہیں کرتے۔ایک صدی گزر چکی ہے اور ہم ابھی تک اس مواد کا عشر عشیر بھی عربوں تک نہیں پہنچا سکے۔اس لئے اب جلدی کرنی چاہئے۔لہذا آپ دن رات ترجمہ کے کام میں مصروف رہتے۔جماعتی اموال کی قدر و قیمت کا احساس حلمی صاحب باوجود اس کے کہ خدا کے فضل سے کروڑ پتی تھے لیکن چھوٹی سے چھوٹی چیز کے ضیاع کے بھی سخت خلاف تھے۔مثلاً اکثر کہا کرتے تھے کہ آپ کا غذ کی ایک طرف استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں جبکہ ہم نے اس کی دونوں اطراف کے پیسے دیئے ہیں۔اس لئے ان کے اکثر تراجم ایسے اوراق پر کچی پنسل سے لکھے ہوئے ہیں جن کی ایک طرف پہلے سے استعمال شدہ ہے۔اور وہ آج تک ہماری عربی ڈیسک کی فائلز میں محفوظ ہیں۔قدیم عرب احمدیوں کی اولادوں کے ضائع ہونے کا سبب جب میں مصر آنے لگا تو جامعہ احمدیہ میں ہمارے استاد محترم نورالحق صاحب تنویر نے ( جنہوں نے مصر میں تعلیم حاصل کی تھی مجھے بعض قدیم مصری احمدیوں کے نام دیئے تھے کہ ان سے جا کر ملنا۔ان میں سے ایک مکرم عبد الحمید ابراہیم آفندی تھے جو اسکندریہ میں رہتے تھے۔سکندریہ کا قاہرہ سے فاصلہ قریباً دو سے اڑہائی سو میل کا تھا۔جب علمی صاحب مصر آئے تو تو ان کے پاس کار تھی۔میں نے ان سے عرض کیا کہ اس قدیم احمدی سے ملنے جانا ہے۔چنانچہ ایک دن ہم وہاں گئے۔مکرم عبد الحمید صاحب کے گھر سے پتہ کیا تو کسی خاتون نے کہا کہ آپ ظہر کے بعد آئیں۔ہم بازار میں گئے اور دو پہر کا کھانا وغیرہ کھایا۔وہاں میں نے پہلی بار دیکھا که مکرم حلمی صاحب اس قدر زیادہ مرچ کھاتے ہیں کیونکہ آپ ایک لقمے کے ساتھ تقریبا آدھی سبز مرچ کھا جاتے تھے۔بہر حال جب ہم دو پہر کے کھانے کے بعد دوبارہ عبد الحمید صاحب کے گھر گئے تو یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ وہ کچھ عرصہ قبل وفات پاچکے تھے۔ان کے بچوں کو احمدیت کا کچھ علم نہ تھا صرف یہ کہتے تھے کہ ایک دفعہ ہمارے والد صاحب ہندوستان میں کسی ولی